خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 640
خطبات طاہر جلد ۹ 640 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۹۰ء درمیان اتحاد نہیں ہوسکتا۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ اختلافات بالکل سطحی نوعیت کے ہیں۔بنیادی اختلاف یہ ہے کہ روس اپنی عظمت اور طاقت کے زمانے میں بھی کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اشتراکیت چین کی زرد فام رنگ اختیار کر کے دنیا پر قابض ہو جائے اور چین کسی قیمت پر یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اشتراکیت زرد رو ہو کر نہ اُبھرے بلکہ سُرخ و سفید ہو کر یورپین اشتراکیت کے طور پر دنیا پر قابض ہو جائے۔پس در حقیقت ان دونوں قوموں کے درمیان جو حسد تھا وہ زرد قوم اور سرخ و سفید قوم کے درمیان کا حسد تھا جو اپنے جلوے دکھاتا تھا اگر چہ دبا رہا اور دنیا کی نظر میں اس طرح اُبھر کر نہیں آیا لیکن جو لوگ ان کی قومی نفسیات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں یہ اشتراکیت کے جھگڑے نہیں تھے بلکہ چینی قوم کے یعنی زرد رو چینی قوم کے سفید اور سرخ رُخ رکھنے والی روسی قوموں سے جیسی Jealousy تھی یا حسد تھا جو دراصل ان اختلافات کو ہوا دے رہا تھا اور اس کے نتیجے میں جو عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے وہ بعد میں پیدا ہوا۔تو یہ جو بدلتے ہوئے حالات ہیں ان میں یہ اختلافات اور بھی زیادہ بڑھنے والے ہیں اور ان کے ساتھ جماعت احمدیہ کو براہ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔چونکہ اب وقت زیادہ ہو گیا اور تمہید ہی جو کافی وقت چاہتی تھی مشکل سے ختم ہوئی ہے اس لئے میں اس مضمون کو آج یہاں ختم کرتا ہوں۔آئندہ خطبہ چونکہ تحریک جدید کے موضوع پر دیا جاتا ہے اس لئے آئندہ خطبے میں انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق تحریک جدید کا موضوع بیان ہوگا اور اُس کے بعد پھر خطبہ جب آئے گا تو پھر میں اس مضمون کو جماعت احمدیہ کے تعلق میں اُس کی مذہبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے تعلق میں بیان کروں گا کہ ہمیں کیا کیا خطرات درپیش ہیں، دنیا کو ان خطرات سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے اور اسلام کی روح کو زندہ رکھنے کے لئے اور نسل پرستی کے حملوں سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کس قسم کے خطرات ہمارے سامنے ہیں۔اب آخر پر میں دوبارہ عراق اور عرب اور مسلمانوں کے عمومی مفاد کے متعلق دُعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔اس مسئلے پر میں تفصیل سے پہلے روشنی ڈال چکا ہوں اس لئے اُس کو دوبارہ چھیڑ نے کی ضرورت نہیں جو نئے حالات سامنے اُبھر رہے ہیں ان کی رُو سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغربی قو میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ اسرائیل کے چنگل میں مکمل طور پر پھنس کر اُن کے اس منصوبے کا شکار ہو چکی ہیں کہ بہر حال عراق کی ابھرتی ہوئی طاقت کو ملیا میٹ کر دیا جائے اور اسی