خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 641

خطبات طاہر جلد ۹ 641 خطبه جمعه ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء تسلسل میں مسلمانوں کی دیگر طاقتیں جو ہیں وہ بھی کمزور ہو جائیں اور بکھر جائیں لیکن اس سطح پر یہ مقابلے نہ ہوں کہ گویا مسلمان ایک طرف اور عیسائی ایک طرف، مغربی قو میں ایک طرف اور مشرقی ایک طرف بلکہ اس دفعہ کا جو منصوبہ ہے اُس میں جاپان تک کو بھی اس میں شامل کرنے کا پختہ منصوبہ بنایا جاچکا ہے اور آج کل جاپان میں یہی بحث چل رہی ہے کہ محض اس لئے کہ جاپان کو بھی عراق کو تباہ کرنے میں حصہ دار بنا دیا جائے۔جاپان کے اُس قانون کو بدلنے کے لئے جاپانی اسمبلی میں Resolutions پیش کئے جاچکے ہیں جس قانون کو خود مغربی اقوام نے ایک لازمی اور غیر متبدل لائحہ عمل کے طور پر جاپان کے لئے تجویز کیا تھا کہ کبھی بھی دنیا میں جاپانی فوج اپنے ملک سے باہر جا کر کوئی لڑائی نہیں لڑے گی اور اپنے ملک سے باہر کسی اور سرزمین پر جا کر کسی قسم کی فوجی کاروائیوں میں ملوث نہیں ہو گی۔یہی قانون جرمنی کے لئے بھی بنایا گیا تھا جو تبدیل کر دیا گیا ہے اور یہی قانون جاپان کے لئے بنایا گیا تھا تا کہ آئندہ کبھی بھی جاپانی قوم کوکسی عالمی جنگ میں شرکت کا خیال تک پیدا نہ ہو اور مسلمان دشمنی میں اور عرب دشمنی میں کہہ لیجئے مگر میرے خیال میں تو زیادہ صحیح تشریح یہ ہے کہ مسلمان دشمنی میں انہوں نے اب جاپان کو بھی اس رنگ میں ملوث کیا ہے کہ وہ بھی ساری دنیا کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی موجودہ اُبھرتی ہوئی بڑی طاقت کو کلیۂ نیست و نابود کر دے تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ مغربی دنیا کا کھیل ہے اور نہ مشرق اور مغرب کی تقسیم ہو اس موضوع پر اور نہ اسلام اور غیر اسلام کی تقسیم ہو۔عرب ممالک بھی ساتھ ہوں، مسلمان ممالک بھی ساتھ ہوں، مغربی بھی ہوں اور مشرقی بھی اور جاپان چونکہ ایک بہت بڑی طاقت رکھتا ہے اور جاپان کے چونکہ اقتصادی مفادات تیل کے ملکوں سے بڑے گہرے وابستہ ہیں اس لئے اُن کو یہ بھی خطرہ تھا اگر جاپان الگ رہا تو بعد کی اُبھرتی ہوئی شکل میں جن نفرتوں نے جنم لینا ہے اُس کا نشانہ صرف مغربی طاقتیں نہ بنیں بلکہ جاپان بھی ساتھ شامل ہو جائے کیونکہ اقتصادی طور پر مقابلہ اگر ہے تو جاپان ہی سے ہے۔بہر حال بہت ہی ہوشیاری کے ساتھ بہت ہی عظیم منصوبے کے تحت جاپان کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ان کی جو مختلف ممالک میں کانفرنسز ہورہی ہیں اور ان کے دانشور جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اُس کا خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ یہ کتنا بھیا نک منصوبہ ہے جس کے نتیجے میں اتنا گہرا اور لمبا نقصان عالم اسلام ہی کو نہیں بلکہ دوسری مشرقی دنیا کو بھی پہنچے گا