خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 639 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 639

خطبات طاہر جلد ۹ 639 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۹۰ء نہیں بنے گا اور اس نے کہا کہ میں موجودہ نسلوں کو اچھی طرح جانتا ہوں یہ تو تم محض پرو پیگنڈہ کر رہے ہولیکن یہ پروپیگنڈے کی بات نہیں ہے یہ انسانی نفسیات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔وہ تو میں جو بنیادی طور پر خود غرض ہوں اور اُن کے انصاف کا تصور قومیت سے وابستہ ہو اور قومیت قومی تصور میں پیوست ہواُن کے ہاں قومی تصور آپس کے معاملوں میں بدلنے لگتے ہیں۔جب آپس کے مقابلے ہوں گے ایک ملک کے دوسرے ملک سے تو وہاں ویلش تصور اور آئرش تصور اور سکائش تصور اور انگلش تصور یہ سارے مل کر ایک وسیع تر برطانوی تصور کے طور پر ابھرتے ہیں اور جرمن میں بوار مکین تصور اور دوسرے جرمن تصور کی بجائے ایک وسیع تر جرمن تصور ابھرتا ہے جس میں نہ مشرقی جرمنی کا تصور باقی رہتا نہ مغربی جرمنی کا نہ شمال کا نہ جنوب کا۔تو قومیت رفته رفته نسل پرستی کا رنگ اختیار کرنے لگتی ہے۔پہلے جغرافیائی حدوں میں پھیلتی ہے اور ایک قوم کی بجائے دو چار تو میں مل کر دوسری دو چار قوموں کے مقابل پر اپنے اڈے بناتی ہیں اور جب ان سب کے مجموعی مفادات باہر کی دنیا سے ٹکراتے ہیں تو یہی قومی تصور نسلی تصور بن جاتا ہے اور White against black سفید فام کا مقابلہ سیاہ فام سے شروع ہو جاتا ہے اور سرخ فام کا مقابلہ زرد فام سے شروع ہو جاتا ہے اور ہم جیسے سانولے لوگ بھی بیچ میں آ جاتے ہیں جو اس لحاظ سے بھی تعصب کا شکار بن جاتے ہیں اور اُس لحاظ سے بھی تعصب کا شکار بن جاتے ہیں چنانچہ امریکہ میں پاکستانی اور ہندوستانی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ کالوں کے نزدیک بھی الگ قوم ہیں اور Colonist کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور سفید فاموں کے نزدیک بھی یہی حال ہوتا ہے۔یہی خطرات افریقہ میں اُبھر رہے ہیں کہ پاکستانی کا رنگ چونکہ اُن سے مختلف ہے اس لئے پاکستانی کو بھی وہ ایک غیر قوم سمجھ کر یہ تعصب دل میں بٹھانے لگتے ہیں کہ یہ بھی آئے ہوئے ہیں باہر سے گویا ہم پر راج کرنے آئے ہیں۔بہر حال یہ تعصبات پھر جو قومی تعصبات ہیں یہ وسیع تر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر رنگوں میں بدل جاتے ہیں۔روس اور چین کے درمیان جو تاریخی اختلافات ہیں اُن کا زیادہ تر تعلق اشتراکیت کے مختلف تصورات سے بتایا جاتا ہے یعنی یہ تعلق بتایا جاتا ہے کہ روس کے ہاں اشتراکیت کا الگ تصور ہے اور چین کے ہاں الگ تصور ہے اور چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان فلسفہ اشتراکیت کو سمجھنے میں اختلافات ہیں اور اُس کی تعبیروں میں اختلافات ہیں اس لئے ان دونوں قوموں کے