خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد ۹ 624 خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۹۰ء کرلو۔یہ تو قابل قبول نہیں ہے کہ پنجاب کے کسی ایک ضلع کا معاشرہ مثلاً گجرات کا معاشرہ جرمن قوموں پر ٹھونس دیا جائے کہ یہ اسلامی معاشرہ ہے۔وہ معاشرہ جو اسلام کی تعلیم کے اکثر حصوں سے بالکل عاری ہو چکا ہو جہاں چوری عام ہو۔جہاں جھوٹ عام ہو، جہاں دھو کہ عام ہو چکا ہو، جہاں بدنظری عام ہو۔ہرقسم کی بیماریاں اور غلط رسوم اس طرح رائج ہو چکی ہوں کہ عملاً ایک اسلامی ملک میں ایک غیر اسلامی رواج قائم ہو چکا ہو اور غیر اسلامی سماج نے قوم کو جکڑ لیا ہوا ایسی بد رسوم ، ایسی بد عادات کو اسلامی معاشرہ کے طور پر ) پیش کرنے کا حق کس نے ہم لوگوں کو دیا ہے۔پس اسی مضمون سے تعلق رکھنے کی باتیں تھیں جو میں نے اپنے رنگ میں ان کو سمجھا ئیں اور بتایا کہ بعض باتوں سے احتراز لازم ہے جہاں بے حیائی کی تعلیم ہے جو مغرب دے رہا ہے جہاں اور بہت سے ایسے بنیادی نقائص ہیں جو اسلام کی پاکیزہ عائلی زندگی کو مجروح کرنے والی باتیں ہیں ان سے احتراز لازم ہے لیکن دیگر اچھی باتوں سے نہ صرف یہ کہ احتر از لازم نہیں بلکہ ان کو اختیار کرناضروری ہے۔پس یہ مقابلوں کے وہ میدان ہیں جو ہمارے لئے اس صدی میں کھولے جارہے ہیں اور ان کے متعلق تمام دنیا کی جماعتوں کو ایسے مقابلوں کا انتظام کرنا چاہئے ایسے طریق اختیار کرنے چاہئیں جس سے عام احمدی کی تعلیم و تربیت ہو۔اس کا ذہن اور اس کی قلبی صلاحیتیں اجاگر ہوں۔صرف یہی نہیں کہ ہم نصیحت کے ذریعے اسے بتائیں کہ اسے کیا کرنا چاہئے بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ہر جگہ کی جماعتیں اپنے اپنے ملک کے لحاظ سے ایسے Study groups بنا ئیں۔ایسے صاحب عقل و فہم لوگوں کی سوسائیٹیاں قائم کریں یا ان کے ادارے قائم کریں جو ان باتوں پر غور کریں اور ہر ملک میں اس لحاظ سے ریسرچ کے کھلے میدان پڑے ہوئے ہیں۔غانا کی رسوم اگر چہ وہ افریقہ ہے باقی افریقہ کے ممالک سے مختلف بھی ہیں، نائیجریا کی رسوم اگر چہ وہ افریقہ ہے باقی افریقن ممالک سے مختلف بھی ہیں اور ان رسوم میں سے کچھ ایسی ہوں گی جو اسلامی مزاج رکھتی ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جو یقیناً اسلامی مزاج سے عاری بلکہ اس کے مخالف ہوں گی۔اسی طرح جاپان کا معاشرہ ہے۔اسی طرح چین کا معاشرہ ہے جن جن نئی قوموں میں احمدیت داخل ہوئی ہے ان میں بعض جگہ اسلام پہلے سے موجود تھا لیکن بگڑی ہوئی صورت میں۔اس کی وجہ سے اور بھی زیادہ الجھنیں پیدا ہو چکی ہیں اور مسلمانوں کے علاقوں میں بھی غیر اسلامی رسم ورواج جڑ پکڑ چکے ہیں اور انہوں نے قومی معاشرے کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔پس