خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد ۹ 623 خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۹۰ء ادوار سے سیکھا تھا لٹانا شروع کیا اور اس طرح لٹانا شروع کیا کہ مغربی قومیں دونوں ہاتھوں سے وہ علم لوٹ کر چلی گئیں اور وہ علم مسلمانوں کے پاس باقی نہ رہا۔ورنہ علم تو ایسی چیز ہے جسے لٹایا بھی جاسکتا ہے اور اس کے باوجود قائم رہتا ہے کم نہیں ہوتا۔آنحضرت ﷺ جب حکمتیں پھیلانے کی خاطر تشریف لائے تو حکمتوں کے پھیلانے سے آپ کی حکمت کم تو نہ ہوئی بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ علم اور حکمت پھیلانے سے بڑھتے ہیں۔بہرحال اس حدیث سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت علیہ کی آئندہ زمانوں پر نظر تھی اور آپ جانتے تھے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ حکمت جو مومن کی ملکیت ہے اس سے گم جائے گی اور غیر قوموں میں چلی جائے گی۔اس وقت علماء اٹھیں گے اور کہیں گے کہ یہ مغربی علوم ہیں ان کو حاصل نہیں کرنا۔یہ غیر قوموں کی حکمتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا ہے۔علماء کی یہ آوازیں تمہیں جاہل بنانے کے لئے اٹھیں گی اس وقت یا درکھنا کہ میں محمد مصطفی سے بلند آواز سے مخاطب کر کے تمہیں کہہ رہا ہوں کہ اے آنے والے مسلمانو! ان جاہل علماء کی آواز پر کان نہ دھرنا۔یہ حکمتیں تمہاری حکمتیں ہیں۔تم سے غیروں نے لے لی تھیں اور ان کو اپنا سمجھ کر اپنا لیا اور پھر تلافی مافات کرنا اور ان باتوں میں آگے بڑھنا اور قرآن کریم کی اس تعلیم کو یاد رکھنا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران: 1) تمہیں خیر امت بننے کے لئے نہ صرف یہ کہ اپنی کھوئی ہوئی حکمتیں واپس لینا ہوں گی بلکہ اتنی ترقی کرنی ہوگی کہ ان حکمتوں کو دوبارہ دنیا میں لوٹانا شروع کرو اور پھیلا نا شروع کرو مگر اس طریق پر کہ تم اور بھی زیادہ ان علوم میں اور ان حکمتوں میں ترقی کرو جن کا فیض تم سے غیروں کی طرف جاری ہو رہا ہو۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر میں نے ان کو متنبہ کیا کہ تم اسلام کی تعلیمات کی علمبر دار تو ہو، اسلام کی تعلیمات کی اجارہ دار نہیں رہی۔بدقسمتی سے اسلام ایک ایسے دور سے گزر چکا ہے جس میں یہ حکمتیں اسلام سے کھوئی گئیں اور غیر قوموں نے حاصل کر لیں تم جن میں آکے بسی ہو، یہاں تمہیں وہ حکمتیں بھی نظر آئیں گے اور وہ علوم بھی دکھائی دیں گے ان کو اخذ کرنے میں ہرگز تر دو نہیں کرنا اور جھوٹی لاف اور تعلی سے کام نہیں لینا کہ ہم دنیا کو دینے کے لئے آئے ہیں۔ہمارا معاشرہ سب سے اچھا ہے اس لئے ہم جو کچھ تمہارے لئے لے کر آئے ہیں اس کو اسی طرح قبول