خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 621

621 خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۰ء خطبات طاہر جلد ۹ کر سکتا ہے۔پس یہ ماضی کی ایک بھیانک رسم ہے جس کا انسانی ترقی سے تعلق نہیں۔یہ بھی غیر اسلامی ہے اور مغربی دنیا کے بعض ترقی یافتہ معاشرتی رجحانات بھی غیر اسلامی ہیں تو بہت کچھ مل جل گیا ہے۔بہت سے ابہام پیدا ہو چکے ہیں اور جس طرح سونے کے تلاش کرنے والا اس لئے ریت کو رد نہیں کر دیتا کہ اس میں کہیں کہیں سونے کے ذرے ہیں بلکہ اس کو چھانتا ہے، دھوتا ہے ، محنت کرتا ہے بعض کیمیائی اثرات کے ذریعے غیر سونے کو الگ کرتا ہے اور سونے کے ذرات کو الگ کرتا ہے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔پس اسلامی معاشرے کی حفاظت کے لئے اس سے زیادہ محنت کرنی پڑے تب بھی یہ درست بلکہ ضروری ہے۔بہر حال یہ ایک ایسا مضمون ہے جس پر آج سے ہمیں نظر رکھنی ہوگی اور اگلی صدی میں مستقلاً اس راہ سے داخل ہونے والے ہر خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اسی وجہ سے میں نے بہت سے خطبات اور خطابات میں معاشرے کو اپنا موضوع بنایا اور معاشرے سے متعلق اب جرمنی میں جب خواتین کے اجلاس میں میری تقریر ہوئی تو اس میں بھی میں نے اسی موضوع پر خطاب کرتے ہوئے بہت سے پہلوؤں سے پردہ اٹھایا اور یاد کرایا کہ دیکھو جس قوم میں آکے تم بسے ہو یعنی جرمنی قوم میں، ان کے اندر مغربی معاشرے کی بعض بدیاں بھی موجود ہیں لیکن یا درکھو کہ تم بھی جس معاشرے کو لے کر اس ملک میں داخل ہوئی ہو تم بہت سی ایسی معاشرتی بدیاں ساتھ لائی ہو جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ بدیاں بھی بڑی بھیانک ہیں۔اس لئے تم یہ نہ سمجھنا کہ تم اسلام کی علمبر دار بن کر ان کے سامنے اپنی ہر عادت کو اسلامی بنا کر پیش کرسکتی ہو۔اگر تم ایسا کرنے کی حماقت کروگی تو اسلام کو شدید نقصان پہنچے گا اور یہ قو میں حق رکھیں گی کہ اس معاشرے کو جس کو تم اسلام بنا کر پیش کر رہی ہو اس کو رد کر دے۔اس کے برعکس ان کے معاشرے میں بہت سی رد کرنے کی باتیں ہیں لیکن بہت سی اچھی باتیں بھی ہیں جو ان کا معاشرتی حصہ بن چکی ہیں ان کو قبول کرنا تمہارے لئے فرض ہے اور یہ خیال کہ یہ غیر قوموں کی باتیں ہیں، انہیں ہم کیسے اپنا ئیں یہ بالکل غلط اور بے بنیاد بات ہے۔کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ کے لئے اس نفسیاتی روک کو دور فرما دیا جب فرمایا الحكمة ضالة المومن ( ترندی کتاب العلم حدیث نمبر : ۲۶۱۱) کہ حکمت کی بات مومن کی گمشدہ اونٹنی کی سی حیثیت رکھتی ہے۔جیسے کسی کی اونٹنی گم ہو چکی ہو اور وہ اسے ملے تو وہ اسے