خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 620

خطبات طاہر جلد ۹ 620 خطبہ جمعہ ۱۹ را کتوبر ۱۹۹۰ء مضمون اپنی ذات میں ایک الگ مضمون ہے۔میں صرف اس طرف اشارہ کرتا ہوں کہ ہر وہ معاشرہ جو آپ کے معاشرے سے مختلف دکھائی دے لاز مار دکرنے کے لائق نہیں ہے۔بلکہ بعض انسانی ترقی کا جو سلسلہ جاری ہے اس کے نتیجے میں بعض معاشرتی تبدیلیاں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں جو رہن سہن کے انداز سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کو غلط کہہ کے رد نہیں کیا جا سکتا۔اب آنحضرت کے زمانے میں ایک رہن سہن تھا۔بعض علماء جو تنگ نظری اختیار کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اسی قسم کی چادریں پہننا، اسی قسم کی چٹائیوں پر لیٹنا، اسی طرح کی شلوار میں اور قمیصیں استعمال کرنا یہی اسلامی معاشرہ ہے اور یہ کہنے کے باوجود ان کا اپنا رہن سہن اس سے مختلف ہے۔نہ ویسی ٹوپیاں پہنتے ہیں نہ ویسی غذا کھاتے ہیں۔پھر اگر وہ اپنے اس عقیدے میں بچے ہوں تو ان کو پھر اسی طرح کھجوریں بھی کھانی چاہئیں اور اونٹ کا دودھ پینا چاہئے اگر اسی کا نام اسلامی معاشرہ ہے۔تو یہ معاشرہ تو اب تمام دنیا میں رائج ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نہ اتنے اونٹ ہیں نہ اتنی کھجوریں ہیں جن پر تمام بنی نوع انسان کے پیٹ بھر سکیں۔پھر سواری بھی وہی اختیار کرنی چاہئے۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ بعض انسانوں میں ترقی سے تعلق رکھنے والی تبدیلیاں ہیں جو بعض پہلوؤں میں معاشرتی تبدیلیاں بھی بن جاتی ہیں ان کا مذہب سے تصادم نہیں ہوا کرتا۔پس بڑے غور کے ساتھ اور فکر کے ساتھ ہمیں ان باتوں کا تجزیہ کر کے کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنی ہوگی۔ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ کون سا معاشرہ حقیقت میں اسلامی معاشرہ ہے خواہ اس میں بعض ترقیاتی تبدیلیاں ہوں۔کون سا معاشرہ غیر اسلامی معاشرہ ہو جاتا ہے خواہ وہ تبدیلیاں ہوں یا نہ ہوں، خواہ وہ ماضی سے تعلق رکھتا ہو۔پس افریقن ممالک کی بہت سی معاشرتی باتیں ایسی ہیں جو ترقی سے نہیں بلکہ ماضی کے ادوار سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ اسی حد تک غیر اسلامی ہیں جیسے آج پیدا ہونے والی معاشرے کی بعض باتیں غیر اسلامی ہیں تو زمانے کا تعلق نہیں ہے بلکہ روح دیکھنی ہوگی۔مثلاً افریقہ میں بعض جگہ مذہب کے نام پر بعض جگہ روایات کے طور پر عورتوں کا ختنہ کرنے کا ایک ظالمانہ رواج ہے اس کے متعلق جو تفاصیل میں نے پڑھی ہیں وہ ایسی خوفناک ہیں کہ اس ظلم کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔چھوٹی بچیوں پر ایسے ایسے مظالم کرتے ہیں اور یہ مظالم بعض دفعہ خدا کے نام پر بعض دفعہ معاشرے کے نام پر کئے جاتے ہیں کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کس طرح کوئی اپنی معصوم بچیوں پر ایسا ظلم