خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد ۹ 622 خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۰ء غیر سمجھ کر دھت کار نہیں دیا کرتا خواہ اسے کسی غیر قوم سے ملے۔اگر کسی عرب کی گم شدہ اونٹنی کسی دشمن قبیلے سے بھی ملتی تو وہ بڑے شوق سے اسے لے کے جاتا تھا اور لوگوں کی نظریں بچا کر لے جاتا تھا اور اپنا حق سمجھتا تھا۔یہ کوئی عرب رسم نہیں بلکہ اس کا اطلاق انسانی فطرت پر ہوتا ہے اور ہر شخص جس کی گھی ہوئی ہر چیز جہاں بھی ملتی ہے وہ اسے اپنا حق سمجھ کر لیتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے اب ضآلة المومن کہہ کر حکمت کو ایک تو مومن کی ملکیت قرار دیا یعنی مومن حکمت کے لئے ، حکمت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور حکمت کے بغیر مومن کی کوئی حیثیت نہیں۔مومن کا اثاثہ مومن کا مال مومن کا سب کچھ حکمت ہی ہے اور مومن کے لئے یہ ناممکن ہے کہ مومن رہتے ہوئے حکمت کی بعض باتیں کھو دے۔پس میرے نزدیک اس میں ایک پیشگوئی بھی تھی اور وہ یہ تھی کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ مومن ایمان لانے کے باوجود ان حکمتوں کو گنوا بیٹھے جو میں نے اسے عطا کی ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعہ:۳) کتاب کے ساتھ حکمت نازل ہوئی اور آنحضرت علیہ اس حکمت کے معطی بن گئے۔اس حکمت کو عطا کرنے والے بن گئے۔پس صلى الله یہ خیال کر لینا کہ اس حدیث کا اطلاق آنحضرت علیہ اور آپ کے غلاموں پر ہوتا تھا یہ درست نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ تمام حکمتوں کی کوثر حضرت محمد مصطفی ﷺ کو عطا ہوئی اور آپ نے وہ حکمتیں بانٹیں اور بڑے کھلے ہاتھوں کے ساتھ بانٹیں لیکن آئندہ ایسا ایک زمانہ آنے والا تھا کہ ان حکمت کی باتوں سے رفتہ رفتہ مسلمان غافل ہونے لگتے اور غیر قو میں انہیں اپنا لیتیں۔پس علم کے لحاظ سے دیکھئے تو آپ کو ایک بہت لمبا صدیوں پر پھیلا ہوا دور دکھائی دے گا کہ جب مغربی قوموں نے مسلمانوں سے علم سیکھ کر اس میں ترقی کرنی شروع کی اور مسلمانوں نے وہ علم اس طرح دے دیا جس طرح انسان پھٹے پرانے کپڑے کسی کو دے دیتا ہے اور ان سے تعلق تو ڑلیتا ہے۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے ایک دفعہ اسی موضوع پر ایک مقالہ فرانس میں پڑھا تھا جو ریویو میں شائع ہوا۔اگر کسی نے اس دردناک تاریخ کا مختصر اعلم حاصل کرنا ہے تو وہ مقالہ جوڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا ریویو میں شائع ہوا۔اس موضوع پر نہایت ہی عمدہ مقالہ ہے۔آپ نے بہت تھوڑے سے صفحات پر بہت بڑی تاریخ کا خلاصہ پیش کر دیا ہے اور اس کا خلاصہ یہی ہے کہ بدقسمتی سے چند سو سال کے اندر اندر مسلمانوں نے وہ سب کچھ جو قرآن اور حدیث اور بعد کے ترقیاتی