خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 618
خطبات طاہر جلد ۹ 618 خطبہ جمعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۰ء فرض ہم پر عائد فرمایا گیا مگر اس طرح نہیں پھیلانا کہ گویا ہم اس مذہب کے مالک ہیں جس طرح چاہیں پھیلائیں ، پھیلانا مقصد ہے۔پھیلانا مقصد تو ہے مگر اسی اسلام کو پھیلانا مقصد ہے۔جو آنحضرت ﷺ کے قلب صافی پر نازل ہوا تھا اور اس اسلام کی خدا تعالیٰ کو ایسی غیرت ہے کہ آنحضرت علیہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تو ایک ذرہ بھر بھی اس اسلام سے الگ قدم رکھ دے، باہر قدم رکھ دے، کوئی تبدیلی اس میں منظور کر دے لیکن خدا تجھے متنبہ کرتا ہے کہ تیرے پاس یہ امانت ہے، ایک ذرہ بھی اس میں خیانت ہوئی اور اگر ایک شعشہ بھی تو نے اس دین سے باہر قدم رکھا جو میں نے نازل فرمایا ہے تو تو سب کچھ کھو بیٹھے گا اور کہیں کا نہیں رہے گا۔کتنی بڑی اور خوفناک وارننگ (warning) ہے، کتنا بڑا انتباہ ہے۔دراصل آنحضرت علی کے لئے تو ناممکن تھا کہ ایک ذرہ بھی اسلام سے انحراف کرتے بلکہ اس کے متعلق تصور بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ رسول اکرم علی ایسی بات سوچ بھی سکتے تھے۔پس خدا جب آپ کو مخاطب کر کے یوں فرماتا ہے تو تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی مختلف قوموںکو متنبہ فرماتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی اور ہے کہ جوں جوں اسلام نے مختلف قوموں میں پھیلنا تھا اسلام میں تبدیلی کے تقاضے پیدا ہونے تھے پس وہ اسلام جو تمام بنی نوع انسان میں پھیلا ہے اور مختلف قوموں میں اس نے نفوذ پکڑا ، ان علاقوں کے مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ اپنے سماج سے تم نے اس رنگ میں صلح نہیں کرنی کہ اسلام کے اصولوں کو تبدیل کرو اور تبدیل ہونے دو بلکہ ایک ذرہ بھی تمہیں اس وجہ سے کہ لوگ تمہیں اچھا سمجھنے لگیں اسلام کونرم دیکھ کر اسلام کو قبول کرنے لگ جائیں ان کی خاطر اپنے مذہب میں تبدیلی نہ کرو۔یہ پیغام ہے جو آنحضرت ﷺ کی وساطت سے تمام دنیا کے مسلمانوں کو پہنچایا گیا ہے۔پس ہمارے لئے ایک پل صراط قائم کیا گیا ہے جہاں اگر دائیں طرف گریں تب بھی ہلاکت ہے بائیں طرف گریں تب بھی ہلاکت ہے۔ایک طرف اپنے معاشرے کو اگر وہ اسلامی نہیں، اسلامی معاشرے کے طور پر پیش کرنا بھی بڑا بھیانک جرم ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رد عمل پر ہم خدا کے حضور جوابدہ ہوں گے اور اگر اس وجہ سے اسلام قابل قبول نہیں رہے گا یعنی بعض قوموں کے لئے قابل قبول نہیں رہے گا تو اس میں سراسر ہمارا گناہ ہے اور اگر اسلام کو قابل قبول