خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 617

خطبات طاہر جلد ۹ 617 خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۹۰ء ممالک اور مختلف قوموں کے مختلف ہیں۔اب ایک ہندو سماج ہے اس سماج کا تصور ضروری نہیں کہ ان کے مذہب سے ہم آہنگ ہو بلکہ سماج ایک اپنا الگ رستہ چلتا ہے اور مذہب بعض دفعہ اس کے ساتھ متوازی بھی ہوتا ہے بعض دفعہ الگ ہٹ جایا کرتا ہے لیکن اس کے باوجو د سماج قائم رہتا ہے جہاں مذاہب کمزور پڑ جائیں وہاں سماج طاقتور ہو جایا کرتے ہیں چنانچہ بہت سے افریقن ممالک میں خدا کے تصور کے لحاظ سے گناہ کا کوئی تصور نہیں مگر ان کا اپنا ایک سماج ہے اور اس سماج کا بڑا بھاری دباؤ ان قوموں پر ہے۔وہ عام مذہبی نقطہ نگاہ سے گناہ کریں تو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں لیکن سماج کے خلاف بات نہیں کر سکتے اسی طرح تمام دنیا میں سماج کے دباؤ ہیں۔مغربی معاشرہ بھی ایک سماج ہے اس کا نیکی اور بدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کا خدا کے تصور سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ قوم نے اپنا ایک رہن سہن بنالیا ہے جس پر مذہبی اثرات بہت ہی کم ہیں۔لہذا جس معاشرے کو ہم عیسائی معاشرہ سمجھ رہے ہیں یہ در حقیقت عیسائی معاشرہ نہیں ہے بلکہ عیسائیت کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔بہر حال جب ہم ان قوموں کو تبلیغ کرتے ہیں تو جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا ہمارے سامنے اسلام کے مقابل پر عیسائیت کھڑی نہیں ہوتی۔نہ اسے کھڑا ہونے کی طاقت ہے بلکہ اسلام کے مقابل پر مغربی سماج سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور ان قوموں کے لئے اپنے سماج کو چھوڑ کر مذہب کو قبول کرنا جو سماج میں بھی دخل انداز ہواورسماج کے اطوار بدلنے کی کوشش کرتا ہو بہت ہی مشکل کام ہے۔پس اس لحاظ سے انگلی ایک صدی کے جو مقابلے ہمارے درپیش ہیں ان میں ایک مقابلے کا میدان سماج کے ساتھ مقابلہ ہوگا۔اوراس بارے میں میں نے پہلے آپ کو متنبہ کیا تھا کہ ہمیں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا اور بہت سوچ سمجھ کر سماج کی تعیین کرنی ہوگی۔اگر پاکستانی یا دیگر قومی سماج کو ہم نے اسلام کا نام دے کر دوسری قوموں پر ٹھونسنے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں رد عمل پیدا ہوئے اور انہوں نے اسلام کو رد کیا تو اس میں خدا کے نزدیک ہم ذمہ دار ٹھہریں گے۔اگر ہم نے دوسری طرف سماج کو راضی کرنے کی خاطر اسلامی اقدار کو قربان کر دیا اور اس خطرے سے کہ کہیں اس وجہ سے یہ اسلام کو رد نہ کر دیں کہ اسلام ان کے سماج سے ٹکراتا ہے، اسلام میں تبدیلیاں کرنی شروع کر دیں تو پھر بھی یقیناً ہم نہ صرف ذمہ دار ہوں گے بلکہ بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔اسلام کو پھیلانا ہماری ذمہ داری ہے، یہ