خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 619

خطبات طاہر جلد ۹ 619 خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۹۰ء بنانے کی خاطر ہم نے اسلام میں تبدیلیاں روا رکھیں تو یہ نہ صرف گناہ ہوگا بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر گناہ ہوگا اور بہت بڑی بددیانتی ہوگی اور اسلام کے ساتھ خیانت ہوگی جس کی خدا تعالیٰ اجازت نہیں دیتا۔پس یہ وہ باریک راہ ہے جس پر چل کر ہم نے اس صدی میں دنیا کی مختلف قوموں کو اسلام پہنچانا ہے۔ایک یہ بڑا خطرہ ہے جس کی میں نشاندہی کرنی چاہتا ہوں کیونکہ جوں جوں تیزی کے ساتھ ہم نئی قوموں میں پھیلیں گے۔اسی قسم کے مطالبے بڑھتے چلے جائیں گے ، اسی قسم کے تصادم ہوتے چلے جائیں گے اسی قسم کی الجھنیں ہمیں در پیش ہوں گی اور ان نئے تقاضوں کو صحیح معنوں میں پورا کرنے کے لئے یا ان نئے مقابلوں سے نپٹنے کے لئے ہمارے لئے کھلی ہوئی ایک واضح راہ ہونی چاہئے اور ہمیں پہلے سے ہی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔پس اگر چہ یہ خطرات بعض جگہ دیسی ہی شدت کے ساتھ نہیں ابھر رہے لیکن چونکہ یہ ترقی اور غلبے کی صدی ہے اس لئے ہماری موجودہ نسل کو حکمت سے کام لیتے ہوئے آئندہ پیش آمدہ خطرات کے احتمالات کو سامنے رکھنا چاہئے۔خطروں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے احتمال پر نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف تیاری کرنی چاہئے۔قرآن کریم نے جو یہ حکم دیا ہے کہ سرحدوں پر گھوڑے باندھو۔رابطوا فرمایا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ سرحدوں پر اپنے گھوڑے باندھو۔یہ سرحدیں مکانی بھی ہیں اور زمانی بھی ہیں۔پس آئندہ زمانے کی سرحدیں وہ ہیں جن پر ہم آج کھڑے ہیں اور یہاں ہمیں گھوڑھے باندھنے کی ضرورت ہے۔یہاں ہمیں مکمل طور پر اسلام کے دفاع کے لئے فوجی تیاری کی ضرورت ہے۔پس جو خطرات آئندہ داخل ہو سکتے ہیں آج ان کے رستے بند کرنے ہیں۔پس معاشرے کے معاملے میں جماعت احمدیہ کو خالصہ اسلامی معاشرے کوصرف اختیار کرنا ہے بلکہ اسے خالص کر کے اختیار کرنا ہے اور اس میں دوسرے معاشروں کے نفوذ کے خطرات سے متنبہ رہنا ہے کیونکہ جب معاشرے معاشروں سے ملتے ہیں جس طرح گرم پانی ٹھنڈے پانی سے ملتا ہے تو نفوذ ضرور ہوتا ہے۔بعض پہلوؤں سے بعض نفوذ ایسے ہیں جن کی اجازت دی جاسکتی ہے جہاں اسلام کے بنیادی اصولوں سے تصادم نہیں ہے ، ٹکراؤ نہیں ہے، وہ ایک عام انسانی ترقی کے نتیجے میں بعض معاشرتی اصلاحیں ایسی ہوتی چلی جاتی ہیں جن کا مذاہب سے تصادم نہیں ہوتا۔