خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد ۹ 610 خطبہ جمعہ ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ فرماتے ہیں: ع پر دے جو تھے ہٹائے اندر کی راہ دکھائے (درین صفحہ ۸۳) تو دراصل یہی اندر کی راہ ہے۔آنحضرت علی کو بھی خدا تعالیٰ نے ایک سورج کے طور پر ظاہر کیا اس لئے کہ یہ بتایا جائے کہ اس نے مجھ سے تعلق رکھ کے سورج والے رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے۔تمام بنی نوع انسان کو فیض پہنچانے والا بن گیا اور وہ لوگ جو اندھیروں میں بھی واقعہ ہیں وہ بھی دراصل اسی کے نور سے فیض یافتہ ہیں۔اس سے ایک اور مضمون ہم پر کھل جاتا ہے لیکن اس کے بھی بیان کا موقعہ نہیں۔حقیقت میں اتنا میں عرض کروں گا کہ اسلامی تعلیم دنیا کے ہر مذہب پر اس طرح چھائی ہوئی ہے کہ جہاں بھی جس مذہب میں بھی آج کوئی فیض کا مقام ملے گا وہاں آپ کو اسلامی تعلیم کی جھلک ملے گی جہاں نہیں ملے گی وہاں کوئی فیض کا مقام نہیں ملے گا۔پس اس مختصر بات میں ساری باتیں آجاتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ روشنی کا وہ سورج بن جاتے ہیں جس سے ہم خدا کا فیض پاتے ہیں، خدا کا نور حاصل کرتے ہیں اور وہ سب پردے اٹھا دیتا ہے اور اندر کی راہ دکھا دیتا ہے پس یہ آخری پردہ ہے جسے توڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ اس بات کے اہل نہیں ہو سکتے کہ اپنے اندرونی اندھیروں سے نجات حاصل کریں اور اپنے اوپر چھائے ہوئے پردوں کو خود چاک کر سکیں سوائے اس کے کہ آپ خدا کے ساتھ براہ راست تعلق جوڑ لیں اور خدا کے نور سے نور یافتہ ہو جائیں اور پھر اس کی روشنی کے نتیجے میں سارے پر دے اس طرح گھلنے لگیں اور مٹنے لگیں اور زائل ہونے لگیں جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( بنی اسرائیل :۸۲) جب حق روشن ہو جاتا ہے یعنی خدا کسی بندے پر روشن ہو جاتا ہے تو اس کی ساری ظلمات مٹ جاتی ہیں اور کٹ جاتی ہیں اور سارے پر دے باطل ہو جاتے ہیں اور ان کو وہاں ٹھہر نے کی مجال نہیں رہتی پس یہ وہ آخری نور کی حالت ہے جس کی طرف ہمیں ہمیشہ سفر کرتے رہنا چاہئے۔جس کے لئے کوشاں رہنا چاہئے اور جس کے لئے دعا کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین مختصر میں دو باتوں میں تمام احباب جماعت عالمگیر کا بے حد شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔فیض کا مضمون چل رہا ہے جو خدا سے فیض یافتہ ہوں وہ تمام بنی نوع انسان کو فیض پہنچاتے