خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 611
خطبات طاہر جلد ۹ 611 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء ہیں۔بھائی منور جو میرے بڑے بھائی اور بزرگ تھے ان کی وفات کے بعد تمام دنیا سے اس کثرت سے تعزیت کے بہت ہی درد میں ڈوبے ہوئے ، اخلاص سے روشن خطوط ملے ہیں کہ ان کے اوپر اظہار تشکر کی مجھ میں طاقت نہیں ہے لیکن اس کثرت سے آرہے ہیں کہ یہ بھی ممکن نہیں یہاں کے موجودہ سٹاف کی رو سے کہ جیسا کہ میری خواہش تھی کہ ہر ایک کو اس کے مضمون کے مطابق شکریہ کا جواب دوں بلکہ اب تو تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ با قاعدہ ایک تحریر چھپوا کر بھجوانا بھی بہت مشکل ہے اس لئے میں نے سوچا کہ خطبہ کے آخر پر ایسے تمام احباب کا دلی شکر یہ ادا کروں۔ان کا دل یہ ضرور چاہتا ہوگا کہ میں ان کی تحریر پڑھوں اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے جذبات کا مطالعہ کروں ان کی تحریر کی روشنی میں۔یہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ایسا ہی کیا ہے۔ہر شخص کی تحریر کے اندر جو بار یک رکا بنتیں چھپی ہوئی تھیں جو خاص ان کے تجربات تھے جو بھائی مرحوم کے ساتھ ان کی واقفیتیں یا ان کے فیض کا ذکر ہے۔وہ ساری باتیں میں نے جذب کیں اور ہر شخص کا اس کی حیثیت اور اس کی توفیق کے مطابق شکر گزار ہوا اور اسی کے خط کے مضمون کے مطابق اس کیلئے دعا گو ہوا۔پس اسی میرے شکریہ کو کافی سمجھا جائے اور اس خطبہ کے ذریعہ میں تمام احباب جماعت کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء دوسرا پہلو ہے میری اہلیہ کی اچانک بیماری کا۔ان کو دل کا دورہ ہوالیکن چونکہ کچھ کمزوری بھی تھی اور کچھ اور ایسے الجھاؤ تھے بیماری کی شکل میں کہ جس کی وجہ سے طبیب کیلئے یہ مکن نہیں ہوتا کہ وہ پہچان سکے کہ یہ دل کا دورہ ہے اور اچھے سے اچھا طبیب بھی اس معاملے میں دھو کہ کھا جاتا ہے۔چنانچہ با وجود اس کے کہ دل کا بے حد شدید حملہ تھا جس سے عموماً انسان جانبر نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور چار پانچ دن اسی حالت میں کہ پتا بھی نہیں کہ دل کی تکلیف ہے وہ پھرتی بھی رہیں ، میرے سفر کی تیاری بھی کرواتی رہیں اور شدید تکلیف میں رہیں لیکن نہ احساس ہونے دیا کہ کیا ہو رہا ہے، نہ پوری طرح بتایا۔جب آخر پتا چلا تو ڈاکٹر دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے کہا کہ یہ تو نہ ممکن نظر آتا ہے کہ اتنے شدید دل کے حملے کا مریض بچ جائے اور پھر مسلسل سیڑھیاں چڑھ رہا ہے اور اتر رہا ہے، کپڑے پیک کر رہا ہے، سفر کی تیاری کر رہا ہے۔یہ تو نا قابل یقین بات ہے لیکن اس کو یہ نہیں پتا کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے دعا گو جماعت ہے اور ان کی بیماری کی خبر کے