خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 609
خطبات طاہر جلد ۹ 609 خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء گا۔وہی روشنی میں زندگی بسر کرنے والا ہے جو اس آخری پردے سے بھی باہر ہو یعنی جس کے اوپر سحاب کا پردہ نہ ہو اور سورج سے براہ راست فیض پانے والا ہو۔اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب خدا انور دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو جس کو چاہے وہ اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ایسے شخص کا حال یکدفعه بدل جاتا ہے، اس کے رجحانات کی کایا پلٹ جاتی ہے۔وہ سورج سے صرف فیض نہیں پا تا بلکہ سورج کی طرح فیض پہنچانے والا بن جاتا ہے اور تمام عالم کو فیض پہنچاتا ہے اور اس پر یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ آخری اندھیرے میں بھی جو فیض اس کو پہنچ رہا تھا وہ دراصل اسی سورج سے پہنچ رہا تھا۔یہ وہ عرفان کا آخری مقام ہے جس کے بعد اور باریک تر مقامات ہیں مگر ظاہری نظر کے لحاظ سے یہ وہ آخری مقام ہے جہاں سے پھر نئے طبقات شروع ہو جاتے ہیں گویا کہ تین دور کہہ لیں مقام نہیں کہنا چاہئے۔یہ آخری دور ہے جس میں انسان داخل ہو جاتا ہے اور پھر نیا نیا نوراس کو ہمیشہ نصیب ہوتا چلا جاتا ہے اس مقام پر آکر جو خدا سے براہ راست فیض پانے لگ جاتے ہیں جو خدا کی نظر میں آجاتے ہیں خدا کو دیکھتے ہیں اور خدا ان کو دیکھتا ہے ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ سمندر کے گہرے ترین اندھیروں میں بھی زندگی کی جو بھی شکلیں تھیں، جو بھی توانائی کی صورتیں موجود تھیں وہ تمام کی تمام بالواسطہ سورج سے فیض پانے والی تھیں۔ایک بھی حالت ایسی نہیں جو قابل ذکر ہو جس نے سورج سے فیض نہ پایا ہو۔یہ سائنس کا ایک لمبا مضمون ہے اس کو تفصیل سے بتانے کا نہ موقعہ ہے نہ جمعہ میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو ان مضامین کو سمجھ سکیں الا ماشاء اللہ لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہی آخری صورت ہے جس سے دنیا کا کوئی صاحب فہم انسان جو سائنس سے واقفیت رکھتا ہوا نکار نہیں کر سکتا۔آپ دنیا میں جتنی چیزیں دیکھ رہے ہیں، جتنی حرکت مل رہی ہے جتنی توانائی کی شکلیں ہیں، جتنی زندگی کی شکلیں ہیں، ارتقاء کی جو بھی حالتیں پائی جاتی ہیں۔یہ بالآخر کلیۂ سورج سے فیض پانے والی ہیں۔اس لئے وہ اندھیرے جہاں موج کے بعد موج ڈھاپنے ہوئے ہے۔وہ مقامات جہاں موج کے بعد موج اندھیرے ڈال رہی ہے اور پھر سحاب بھی اوپر چھایا ہوا ہے۔وہ مقامات بھی سحاب کے پیچھے چمکنے والے سورج سے فیض یافتہ ہوتے ہیں لیکن ان جاہلوں کو پتا نہیں ہوتا کہ یہ کیا ہورہا ہے جب وہ پردہ اٹھتا ہے تو پھر سارا ماحول روشن ہو جاتا ہے، پھر تمام حقیقتیں آشکارہ ہو جاتی ہیں۔