خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد ۹ 608 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء تر بنی نوع انسان کے خوف اور بنی نوع انسان کو خوش کرنے کی خاطر مختلف منازل میں گزرتی ہے۔ ان دو باتوں کے درمیان جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مختلف مراتب اور منازل ہیں الگ الگ مقامات ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خالصہ بنی نوع انسان سے ڈرنے والا شخص ہے اور یہ خالصہ بنی نوع انسان کو راضی کرنے والا شخص ہے بلکہ ہر شخص اپنی اپنی توفیق کے مطابق کسی حال پر قائم ہوتا ہے کہیں بنی نوع انسان کا خوف اس پر اس حد تک غالب ہو جاتا ہے کہ پوری طرح وہ مشرک بن چکا ہوتا ہے اور خدا اور خدا والوں کا کوئی خوف اور کوئی احترام اس کے دل میں باقی نہیں رہتا اور بہت سے آدمی ایسے ہیں جن میں کچھ حصہ خدا کے خوف کا بھی رہتا ہے اور کچھ حصہ بنی نوع انسان کے خوف کا بھی رہتا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہت سے فاصلے ہیں ۔ مختلف حالتیں ہیں اور ہر انسان اگر غور کرے تو اپنی حالت کا تعین کر سکتا ہے۔ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ ( القيامه : ۱۲) والی آیت میں جو مضمون قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے یہی ہے کہ تم اپنے نفس پر بصیرہ تو ضرور ہو۔ ہم نے تمہیں یہ توفیق بخشی ہے چاہو تو اپنے نفس کا ایسا خوبصورت اور واضح تجزیہ کر لو کہ بعینہ معلوم کر لو کہ تم کیا واقع ہوا اور تمہاری حالت کہاں ہے کسی مقام پر کھڑی ہے لیکن تم عذروں کے چکر میں پڑے رہتے ہو۔ مصیبت یہ ہے کہ اپنے آپ سے بھی اپنے حالات کو چھپاتے ہو اور اندھیروں تے ہو اور اندھیروں کی ایسی حالت میں ہو جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا کہ لَمْ يَكَذِيرُ بِهَا (النور:(۴) اگر وہ ہاتھ بڑھا کر اس کو دیکھنا چاہے تو دیکھ نہیں سکتا اور اس نہ دیکھنے میں در حقیقت اس کے اندرونی رجحان کا تعلق ہے ایسے اندھیروں میں بسر کرنے والے خواہ وہ اندھیروں کی کسی قسم میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہوں در حقیقت اپنے گناہوں اور اپنی کمزرویوں سے واقف نہیں ہونا چاہتے اور ان سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ جب وہ دکھائی دینے لگتی ہیں تو اپنی نظر کو دھندلا لیتے ہیں اور اس کمزور طالب علم کی طرح جو امتحان دینے کے بعد سوچتا ہے کہ شاید میرے استاد کی نظر دھندلا گئی ہو اور یہ غلطی اس نے محسوس نہ کی ہو۔ اس طرح وہ ہمیشہ اپنے متعلق یہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نظر دھندلانے کی امید استاد سے رکھتے ہیں اپنی ساری زندگی اپنے حالات کو اسی دھندلائی ہوئی نظر سے دیکھتے چلے جاتے ہیں اور کبھی ان کو خیال نہیں آتا کہ آخری ممتحن ہم نہیں ہیں بلکہ آخری ممتحن تو خدا ہے۔ پس ایک ایسا وقت آئے گا جب تم اس مقام پر پہنچو گے جہاں تمہارا حساب چکایا جائے