خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 607
خطبات طاہر جلد ۹ 607 خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء کی تصویریں بھی اخباروں میں نہیں آتیں اور چرچے اخباروں میں نہیں چلتے لیکن ان کی عبادتیں ریا کی وجہ سے بے حقیقت ہو جاتی ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ بے حقیقت ہونے کی وجہ سے ریا کا شکار ہو جاتی ہیں۔پھر ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دکھاتے ہیں تو خدا کو نہیں دوسروں کو اور ڈرتے ہیں کسی کی نظر سے تو بنی نوع انسان کی نظر سے ڈرتے ہیں اور میری نظر سے نہیں ڈرتے تو جس کا تعلق سورج سے نہ رہا ہو اور درمیان میں گہرے بادلوں کے پردے حائل ہوں ، نہ سورج اس کو دیکھ سکتا ہے نہ وہ سورج کو کچھ دکھا سکتا ہے تو کیسی حسین مثال دی ہے کہ خدا کے نور سے تعلق کاٹنے والے یہ لوگ پھر دنیا کے نوروں سے تعلق جوڑتے ہیں۔یعنی دنیا کے نور سے مراد ہے جتنی بھی تھوڑی بہت روشنی دراصل سورج سے بالواسطہ دنیا کو نصیب ہوتی ہے۔اس روشنی میں وہ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں اور وہی ان کا ملجا و ماوگی ہے ، وہی ان کی زندگی کا حاصل ہے۔تو یہ جو دوسرا پردہ ہے یہ بھی بہت خطرناک پردہ ہے اور بنی نوع انسان کی اکثریت خواہ وہ مذہب سے تعلق رکھتی ہو اور خواہ وہ نفسانیت کی آخری حالت سے باہر آ چکی ہو تب بھی اسی حال میں زندگی بسر کر رہی ہوتی ہے کہ اس کے اکثر نیک اعمال کوئی نہ کوئی بنی نوع انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والے مضمرات لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ایسی مخفی باتیں لئے ہوتے ہیں جن کا تعلق خدا کی ذات سے نہیں ہوتا بلکہ بنی نوع انسان سے ہوتا ہے۔ان کی خیرات کا بھی زیادہ تر تعلق نفسی اغراض اور ریا کی اغراض سے ہو جاتا ہے۔یانفسی اغراض ان معنوں میں کہ وہ دیتے ہیں تاکہ زیادہ ملے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدثر: ) اس مضمون کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہرگز اس خیال سے احسان نہ کرو کہ تم زیادہ لے لو اور بعض دفعہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ریا سے تعلق ہوتا ہے وہ اللہ کے لئے نہیں خرچ کرتے بلکہ دنیا کو دکھانے کی خاطر۔اور یہ صرف دو مقاصد نہیں ہیں ان کے درمیان بہت ہی بار یک در بار یک یعنی چھوٹی چھوٹی منازل ہیں اور بہت ہی مراتب ہیں جو ان کے درمیان واقعہ ہیں۔اس لئے جب قرآن کریم بعض بڑی بڑی بنیادی باتوں کا ذکر فرماتا ہے تو یہ نہیں ہے کہ وہ باتیں آپس میں جڑی ہوئی ہوتی ہیں ان کے درمیان چھوٹے چھوٹے فاصلے ہیں اور انسان ایک مقام سے دوسری طرف سفر کرتے ہوئے وقت لیتا ہے لیکن درمیان میں بہت سی منازل حائل ہوتی ہیں کوئی یہاں ٹھہر گیا کوئی وہاں ٹھہر گیا اور بعض لوگوں کی زندگی تمام