خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 605

خطبات طاہر جلد ۹ 605 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء ہیں اور جو بولتے ہیں وہ اندھے اور بہروں کی طرح، گونگوں کی طرح کی باتیں ہوتی ہیں۔جو شخص اندھا اور بہرا بھی ہو وہ جو بات کرے گا تو گونگا ہوگا اور اول درجے کا گونگا ہوگا۔وہ سوائے غوغا کے اور شور کے اور اس کو کچھ بھی سمجھ نہیں آسکتی کیونکہ گونگوں کی بھی قسمیں ہیں۔اکثر تو خدا کے فضل سے دیکھ بھی سکتے ہیں اس لئے وہ ہونٹوں سے اندازے لگا کر بہت کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔لوگوں کے تاثرات دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ان کی آواز کیسی بدزیب ہے اور بدنما ہے اور کیا کیا اس میں کمزوریاں ہیں جو چہروں پر ظاہر ہوتی ہیں۔تاثرات کی شکل میں تو ایسے گونگے جو ذہین ہوں وہ پھر ایسی آوازیں نہیں نکالتے جس پر لوگ ہنستے ہوں ، جس پر لوگ برا مناتے ہوں، جن کے بداثرات لوگوں کے چہروں پر ظاہر ہور ہے ہوں لیکن یہ گونگے اور بہرے جو عقل کے گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں نہ عقل کی بات سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں۔ان کی باتیں بالکل شور وغوغا ہیں۔مکروہ سنائی دینے والی باتیں اور ان کے اندر کوئی مغز نہیں رہتا، کوئی حکمت نہیں رہتی ، کوئی بنی نوع انسان کے فائدے کی بات نہیں رہتی۔تو انسان اندھیروں میں سے ہمیشہ کے لئے نکل کر ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ جہاں روشنی ہی روشنی ہو، یہ سوائے خدا سے تعلق کے نصیب نہیں ہوسکتا اور پھر آگے اس میں بھی درجے ہیں لیکن باقی سب جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی پہلو سے جنین کی کوئی حالت اپنے اند رکھتا ہے۔اس مضمون پر غور کر کے اگر آپ اپنی زندگی کا تجزیہ کریں تو اللہ تعالی آپ کو توفیق عطا فرما سکتا ہے کہ آپ اپنے لئے بہتر لائحہ عمل بنا سکیں۔دوسرے پردے کی مثال جب ہم اس آیت پر چسپاں کرتے ہیں تو وہ ایسے انسان کی سی ہے جو خدا کی نظر میں نہیں رہتا لیکن بندوں کی نظر میں آجاتا ہے اور بندوں کو دیکھنے لگ جاتا ہے اور بندوں کو سنے بھی لگ جاتا ہے۔اس کے بنی نوع انسان سے تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔وہ جنین کے پردے سے باہر آکر ایک اور قسم کے پردے میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کا ہر فعل دو پہلو رکھتا ہے۔یا وہ بنی نوع انسان سے خوف کھا رہا ہے اور یا وہ بنی نوع انسان کو خوش کرنا چاہتا ہے۔خدا اس کی نظر میں کوئی ایسی اہمیت نہیں رکھتا کہ اپنے افعال کو اور اپنے اعمال کو خدا کی رضا کی خاطر ڈھالے اور خدا کی رضا کے تابع کرے چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو کثرت سے مختلف آیات میں بیان فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ لوگ جو نیک عمل کرتے ہیں وہ ریا کی خاطر کرتے ہیں یہاں تک کہ سب