خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد ۹ 606 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۰ء سے بڑا نیک عمل یعنی عبادت اس میں بھی ریا داخل ہو جاتی ہے گویا یہ سمندر کی دونوں موجوں سے باہر تو آگئے لیکن سحاب کا سایہ ابھی ان کے اوپر پڑا ہوا ہے یعنی سمندر کی موجوں سے باہر بھی آجائے اور اگر گہرے بادل چھائے ہوئے ہوں تو کچھ سوجھائی نہیں دیتا تو ان کا جو کچھ بھی تھوڑا بہت دھندلا نظر آتا ہے اس کا آسمان سے تعلق نہیں ہوتا وہ اپنے ماحول اور چھوٹے سے مختصر دائرے کے ماحول میں دکھائی دینے والی چیزیں ہیں اور انہیں کی خاطر انسان زندہ رہتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ) (الماعون : ۸۲۵) فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ہلاکت ہو مصلیوں کے لئے ، یہاں مصلی سے مراد پنجابی والے مصلی نہیں۔مصلین یعنی نماز پڑھنے والے۔دیکھیں کلام الہی کی شان نماز پڑھنے والوں پر لعنت ڈال رہا ہے لیکن کون سے نماز پڑھنے والے۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ وہ اپنی نماز کی کنہہ سے غافل ہوتے ہیں۔اسکی حکمتوں اور اس کی روح سے غافل ہوتے ہیں یعنی نماز کی حکمت اور کنہ تو یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف انسان کو لے جائے اور خدا کے ساتھ تعلق قائم کر دے اور خدا دکھائی دینے لگے اور خدا کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو۔یہ ہے صلوٰۃ کی حقیقت اور اس کی حکمت۔عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سے غافل ہوتے ہیں لیکن خلا تو دنیا میں کوئی نہیں ہے جب ایک حقیقت ایک جگہ کو چھوڑتی ہے تو اس کی جگہ ایک جھوٹی بات اس حقیقت کے خلا کو پر کرنے کے لئے آجاتی ہے۔الَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ ہر فعل انسان کے لئے کوئی مقصد چاہتا ہے، کوئی وجہ ہونی چاہئے کوئی Motive Force کام کرنے کے لئے طاقت کا ذخیزہ ہونا چاہئے فرمایا ان کی Motive Force بدل جاتی ہے۔خدا کی خاطر نماز نہیں پڑھتے ، دکھاوے کی خاطر، بنی نوع انسان کو بتانے کی خاطر کہ ہم کتنے بزرگ ہیں اور داڑھیاں بڑھالیں گے اور ایسی ایسی جگہوں پر جا کر نماز پڑھیں گے کہ جہاں تصویریں کھینچی جارہی ہوں، کیمرے تیارہوں ان کی عبادت کے چرچے کرنے کے لئے اخباروں میں تشہیر ہو رہی ہو کہ فلاں وزیر صاحب فلاں جگہ پہنچے اور فلاں جگہ عید کی نماز انہوں نے سر انجام دی۔اس قسم کے قصے شروع ہو جاتے ہیں لیکن صرف وزیروں پر موقوف نہیں ہے۔صرف سیاستدانوں پر موقوف نہیں ہے، زندگی میں بہت سے انسان ایسے ہیں جن