خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد ۹ 604 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء کوئی تعلق رکھتی ہیں۔بعضوں سے زیادہ اور بعضوں سے کم ، بعضوں کی حالت میں جنین کی کیفیت بہت تھوڑی ہوتی ہے اور سیمیعًا بَصِيرًا کی کیفیت زیادہ ہوتی ہے۔بعضوں کی حالت جنین کی کیفیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ موت کے مشابہ ہوتی ہے۔لیکن ہم میں سے ہر شخص ان کیفیات سے گزرا ہوا ہے کیونکہ جنین کی مثال میں خدا تعالیٰ نے ایک اور بہت ہی عظیم الشان حکمت کی بات یہ بیان فرما دی ہے کہ جنین میں غور کرو کہ ہم تمہیں کیسے مختلف شکلیں دیتے ہیں اور یہ جو سوال اٹھایا گیا اس نے تمام Evolution ، تمام دور ارتقاء کے ہر حصے پر روشنی ڈال دی کیونکہ سائنس دانوں نے یہ دریافت کیا کہ خدا تعالیٰ رحم میں جنین کو ہر اس شکل سے گزارتا ہے جس شکل سے کبھی زندگی گزری ہے اور زندگی کے ہر طبقے کی کوئی نہ کوئی مشابہت بچے کی پیدائش کے آغاز سے لے کر اس کے مکمل ہونے تک ضرور اس کی زندگی کی نشو و نما کے کسی حصے میں ملتی ہے۔پس سلوک کی اعلیٰ سے اعلیٰ راہیں طے کر نیوالا بھی ان باتوں سے واقف ضرور ہوتا ہے خواہ وہ کتنے بلند مقام پر ہو۔بعضوں کے سفر کامیابی سے طے ہوتے ہیں، ہر ابتلاء سے وہ کامیابی سے گزر جاتے ہیں۔بعض ٹھوکریں کھا کر آگے بڑھتے ہیں ، بعض کچھ دیر اندھیروں میں بسر کر کے پھر خدا سے توفیق پاتے ہیں کہ پردے پھاڑ کر آگے نکلیں۔مگر آپ اگر اپنے حال پر ان باتوں کو اطلاق کر کے دیکھیں تو یہ مضمون جو جنین والا ہے آپ کے لئے روشنی لے کر آئے گا اور آپ کو اندھیروں سے نکالنے والا بنے گا اور آپ اپنی کیفیتوں کا بہتر تجزیہ کرنے کے اہل بن جائیں گے۔پس خود غرضی کی انتہاء کا نام جنینی کیفیت ہے جس میں انسان کلیۂ فیض پانے والا ہے اور یہ وہ پردہ ہے جو عقل اور دل اور روحانیت کو بالکل اندھا کر دیا کرتا ہے۔خود غرضی اور نفسانیت کی آخری شکل وہ ہے جو بڑے سے بڑے عالم کو بھی کلیۂ جاہلانہ حرکتوں پر مجبور کر دیا کرتی ہے۔بڑے سے بڑے فلسفہ دان، بڑے سے بڑے سیاستدان کو جب خود غرضی کی بیماری لاحق ہو تو جہاں وہ لاحق ہوتی ہے وہاں اس کا اندھا پن ظاہر ہو جاتا ہے وہاں نہ وہ سیمینکا رہتا ہے، نہ بصیرا رہتا ہے۔سن بھی نہیں سکتا دیکھ بھی نہیں سکتا۔اب یہ بھی ایک مثال ہے جو آج کل کے حالات پر صادق آ رہی ہے۔آپ مغربی دنیا کے بڑے بڑے عظیم الشان روشن دماغ تعلیم یافتہ سیاستدانوں کے حال پر غور کریں۔جہاں خود غرضی لاحق ہوئی وہاں نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں۔فوراً اندھے بھی ہو جاتے ہیں اور بہرے بھی ہو جاتے