خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد ۹ 589 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۹۰ء اس کے اندھیرے بھی روشن ہو جاتے ہیں کیونکہ اسے چھپنے کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی ۔ وہ جہاں بھی جائے جس حالت میں زندگی بسر کرتا ہو وہ آنکھوں کے نیچے رہتا ہے اور نظر کے سامنے رہتا ہے۔ یہی ایک حقیقت ہے جو انسان کو گناہوں سے پاک کر سکتی ہے اس کے سوا اور کوئی طریق گنا ہوں سے پاک ہونے کا نہیں ہے۔ پس دنیا کی خرابیاں ہوں یا ند ہبی امور سے تعلق رکھنے والے گناہ ہوں تمام جرائم کی جڑ اس بات میں ہے کہ ہم خدا سے لقاء کے مضمون کو بھلا دیتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس سے پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں ۔ ظاہراً انکار کریں یا نہ کریں۔ ہماری روزمرہ کی زن روزمرہ کی زندگی میں مرنے کے بعد خدا سے ملنے کا تصور کمزور پڑتا چلا جاتا ہے اور یہ تصور جتنا کمزور پڑتا چلا جاتا ہے اتنا ہی انسان گناہوں پر دلیری اختیار کرتا چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ معاشرتی گناہ بھی جن کو ہم قانون شکنی کہتے ہیں وہ بھی زور مارنے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ تمام سوسائٹی انار کی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پس جماعت احمد یہ کو ان بنیادی حقیقتوں کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے خواہ کوئی کتنی تلقین کرے سچائی کی عبادتوں کی نیکی اختیار کرنے کی ، بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنے کی، بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کی کیسی کیسی اچھی نصیحتیں کیوں نہ کرے جب تک سننے والے کو یہ یقین نہ ہو کہ میرا ایک خدا ہے اور مرنے کے بعد میں نے اس کے حضور پیش ہونا ہے اس وقت تک یہ نصیحتیں اثر نہیں دکھا سکتیں یا دکھاتی ہیں تو ایک عارضی سا اثر دکھاتی ہیں پس اس بنیادی حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر اتناز ور دیا ہے اور مختلف رنگ میں اس پر روشنی ڈالی ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریریں کسی نے پڑھی ہوں تو اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ کبھی بھی اس بنیادی مضمون کو فراموش کر سکے۔ وہ نظم جو ہمیشہ شادیوں کے موقع پر پڑھی جاتی ہے اس کا مصرعہ یہی ہے نا کہ: یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی (در ثمین صفحه ۳۴۰) کہ اے خدا اس دن کو مبارک کر اور ساتھ عرض کیا سبحان من یرانی۔ پاک ہے وہ ذات جو مجھے ہمیشہ دیکھتی ہے۔ پس جو شخص اس یقین کے ساتھ زندہ ہے کہ ایک ذات اس کو ہمیشہ دیکھتی رہتی ہے اس کی زندگی میں کوئی اندھیرا آہی نہیں سکتا۔ وہ روشنی کے وقت بھی روشنی میں رہتا ہے اور