خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 590

خطبات طاہر جلد ۹ 590 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء اندھیروں کے وقت میں بھی روشنی میں رہتا ہے اور یہ مضمون ایک جیسی شدت کے ساتھ سب پر چسپاں نہیں ہوتا۔اندھیروں میں بھی نسبتیں ہوا کرتی ہیں، روشنی میں بھی نسبتیں ہوا کرتی ہیں۔ایک اندھیرے سے انسان روشنی کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اگلی روشنی کے مقابل پر وہ پہلی روشنی اندھیرا دکھائی دینے لگتی ہے اس لئے یہ بہت لمبا سفر ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ خدا کے تصور کو زیادہ سے زیادہ تازہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لمحات اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ لمحات میں خدا تعالیٰ کے وجود کا تصور باندھا جائے یہی ایک طریق ہے جس سے انسان حقیقی معنوں میں گناہوں سے نجات پاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: افسوس کا مقام ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے لیکن اس کے لئے وہ کوششیں کی جاتی ہیں کہ گویا کبھی یہاں سے جانا ہی نہیں۔انسان کیسا غافل اور نا سمجھ ہے کہ اعلامیہ دیکھتا ہے کہ یہاں کسی کو ہمیشہ کے لئے قیام نہیں ہے۔لیکن پھر بھی اس کی آنکھ نہیں کھلتی۔اگر یہ لوگ جو بڑے کہلاتے ہیں اس طرف توجہ کرتے تو کیا اچھا ہوتا۔دنیا کی عجیب حالت ہورہی ہے جو ایک دردمند دل کو گھبرا دیتی ہے۔بعض لوگ تو کھلے طور پر طالب دنیا ہیں اور ان کی ساری کوششیں اور تگ و دود نیا تک محدود ہے لیکن بعض لوگ ہیں جو اسی مردود دنیا کے طلب گار مگر وہ اس پر دین کی چادر ڈالتے ہیں۔جب اس چادر کو اٹھایا جاوے تو وہی نجاست اور بد بو موجود ہے یہ گروہ پہلے گروہ کی نسبت زیادہ خطرناک اور نقصان رساں ہے۔(ملفوظات جلد ۴ صفحہ: ۴۶۷) یہ پہلو جو ہے اس کو خاص طور پر پیش نظر رکھیں کہ محض دین کی چادر اوڑھ لینا کافی نہیں بلکہ حقیقت میں اس چادر کے اندر کی زندگی ہے جو خدا تعالیٰ کی نظر میں رہتی ہے۔پس جب تک ہم پوری کوشش کر کے چادر سے باہر کی زندگی کو چادر کے اندر کی زندگی کے مطابق نہ کر لیں اس وقت تک ہم مقام امن میں نہیں آ سکتے اور یہ بات کہنے کو آسان ہے لیکن بہت مشکل بات ہے۔ایسی بات ہے جس پر ساری زندگی محنت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ خدا کے غیر معمولی فضل کے سوا کوئی انسان یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہو کہ میری چادر سے باہر کی زندگی