خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد ۹ 588 خطبه جمعه ۵ /اکتوبر ۱۹۹۰ء نے کسی بستی پر حرام کر دیا ہے جس کے باشندے ، رہنے والے جب ایک دفعہ مر جائیں وہ ہرگز کبھی لوٹ کر دوبارہ وہاں نہیں آئیں گے۔پس دیکھیں کہ بظاہر ایک ہی قسم کا مضمون ہے جس پر یہ بھی ایمان لا رہے ہیں اور اہل ایمان بھی خدا تعالی پر یقین کرنے والے بھی ایمان لاتے ہیں لیکن بنیادی طور پر ان کے محرکات بھی الگ ہیں اور ایک دوسرے سے بالکل جدا جدا ہیں۔ان کا مرنے کے بعد کی زندگی پر ایمان اس زندگی پر ایمان کے نتیجے میں اور اس کی بڑھی ہوئی خواہش کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور مرنے والوں کو بھی دوبارہ اپنی طرف لوٹا دیتے ہیں۔اور مذہبی تصور میں دنیا سے تعلق کاٹ کر روحوں کو خدا کی طرف واپس بھجوایا جاتا ہے اور وہاں جا کر وہ جوابدہ ہوتے ہیں۔پس یہ وہ مذہبی تصور ہے کہ تم مرو گے، خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہاں تمہارے سے جواب طلبی کی جائے گی۔یہ بنیادی تصور ہے جو گناہوں کے قلع قمع کرنے کے لئے ضروری ہے اور اس تصور سے آپ جتنا دور ہوتے چلے جائیں گے اتنا ہی تو ہمات کا شکار ہوتے چلے جائیں گے اور اتناہی غیرذمہ دار ہوتے چلے جائیں گے۔آخر وہ مقام آتا ہے جب انسان جرائم پر بے دھڑک ہو کر جرات اختیار کرتا ہے پھر نہ وہ خدا کو جواب طلبی کا حق دے سکتا ہے نہ انسان کو جواب طلبی کا حق دے سکتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں آزاد ہوں۔مروں گا یہیں ختم ہو جاؤں گا۔زندگی میں جو کچھ میں کرسکتا ہوں میں کروں گا کوئی مجھے روکنے والا نہیں۔اس دور میں جب دنیا داخل ہوتی ہے تو جرائم اس تیزی سے پرورش پاتے ہیں کہ پھر ان پر کوئی حکومتیں اختیار نہیں رکھتیں اور کسی طرح ان کو روک نہیں سکتیں۔انگلستان میں ٹیلی ویژن پر آج کل اس قسم کی بہت بحثیں آتی ہیں کہ جرائم بڑھ رہے ہیں ان کو کس طرح روکا جائے، پولیس قوانین میں کیا تبدیلیاں پیدا کی جائیں، کیا اختیار ان کو دیے جائیں کیا اختیار نہ دیے جائیں اور جب میں ان پروگراموں کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ قرآنی حکمتوں سے ہٹ کر جب دنیا کے حکمتوں والے بھی باتیں کرتے ہیں تو بالکل جاہلانہ باتیں ہوتی ہیں جرائم کو قوانین نہیں روکا کرتے کوئی دنیا کا قانون کوئی دنیا کی پولیس جرائم کو روک نہیں سکتی۔جرائم کو دبا سکتی ہے اور جرائم کو روکنے کے لئے صرف خدا تعالیٰ کا تصور اور اس سے تعلق کا تصور ہے جو حقیقت میں کام کر سکتا ہے۔ایسا انسان جو خدا پر یقین رکھتا ہے اور خدا سے ملاقات کا یقین رکھتا ہے