خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 582

خطبات طاہر جلد ۹ 582 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء ہیں کہ کوئی ہے ہی نہیں اور کسی کے سامنے ہماری جواب طلبی نہیں ہوگی۔اس لئے عدم کے سامنے ان کی دادرسی بھی نہیں ہو سکتی۔اسپلیں تو وہاں ہوتی ہیں جہاں کوئی وجود ہو۔پس ان سے ان کے اپنے اعتقادات کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔دوسرے یہ کہ محض بھلا دینا کافی نہیں۔بھلا دینے کے بعد بعض بداعمالیوں پر جرات کرنا اور بیبا کی اختیار کرنا یہ دراصل انسان کو سزاوار قرار دیتا ہے۔چنانچہ اس کے متعلق دو باتیں بیان فرمائیں وہ تمسخر سے کام لینے لگے اور دنیا کی زندگی نے انہیں رستے سے بھٹکا دیا اور بے راہ روکر دیا۔یہ جو مضمون ہے اس کا روز مرہ کے گناہوں کے ساتھ ایک بڑا گہراتعلق ہے۔مغربی دنیا میں جب بھی ہم اسلام کا پیغام پہنچاتے ہیں تو بسا اوقات میں نے دیکھا ہے کہ دلائل کے ساتھ ان کو قائل بھی کر لیا جائے کہ اسلام ایک معقول مذہب ہے اور اس دنیا کے مسائل کاحل رکھتا ہے تب بھی وہ اسلام کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور دراصل عیسائیت کے مقابل پر اسلام کو کمتر جان کراس کا انکار نہیں کرتے بلکہ اپنی تہذیب سے چھٹے ہوئے ہیں اور اسلام کے مقابل پر اپنی تہذیب کو قربان نہیں کر سکتے۔اس تہذیب نے ان کو بہت سی آزادیاں دے رکھی ہیں، ہر قسم کی لذت یابی کے سامان یہاں موجود ہیں اور ہر قسم کی لذت یابی کی اجازت موجود ہے پس غَرَّتُكُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا کا یہ مطلب ہے کہ آخرت کے اوپر اور جزاء سزا پر ایمان کا نہ ہونا لازماً انسان کو دنیا کی طرف جھکا دیتا ہے اور وہ دنیا کا کیٹر بن جاتا ہے اور ان دونوں مضمونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے پس جب خدا کو بھلا کر اور یوم آخرت کو بھلا کر انسان دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رہا ہوتو ناممکن ہے کہ وہ موت کے بعد کے متعلق ایک فرضی خیال کے اوپر اس چیز کو قربان کر دے جو اس کے ہاتھ میں ہے اور وعدہ فردا پر آج کی ان باتوں کو قربان کر دے جن کو وہ حقیقتیں سمجھ رہا ہے کہتے ہیں (انگریزی کا محاورہ ہے اس کا ترجمہ یہ ہے ) ایک جھاڑی کے دو پرندوں سے ہاتھ کا ایک پرندہ بہتر ہے۔پس اسی قسم کا مضمون ہے جو صرف مغرب ہی میں نہیں بلکہ مشرق میں بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے خواہ الفاظ میں بیان کیا جائے یا نہ کیا جائے اور مختلف شعراء اسی مضمون کو خود تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں چنانچہ دنیا کے اکثر ادب میں آپ یہ مضمون پائیں گے کہ آئندہ کے وعدوں پر ، کو رو قصور کے وعدوں پر ، کل کی شراب کے وعدوں پر آج کی حسیناؤں کو ، آج کی شراب کو کیوں قربان کریں۔آج