خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد ۹ 581 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء کچھ الگ ہونا چاہئے۔دنیا کے معاملات میں تو یہ طریق ظلم کا طریق ہوا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ ظالم نہیں ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بھولنے کے مضمون کو بھولنے سے باندھا ہے فرمایا کہ ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسا کہ تم نے ہماری لقاء کو بھلا دیا۔پس پہلی بات تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ نا انصافی کا مضمون نہیں، ظلم کا مضمون نہیں بلکہ برابر کا بدلہ دیے جانے کا مضمون ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے کیونکہ انسان جب خدا کو بھلا دیتا ہے تو اس کا بھلانا ایک عارضی حیثیت رکھتا ہے اور محض بھلانے کے نتیجے میں اتنی بڑی سزا کو تسلیم کرنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا جب تک اس کے نتیجے میں کچھ اور ایسے مکروہ افعال سر زدنہ ہوں جن کے علم کے بعد انسانی دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ ہاں یہ شخص سخت سلوک کا سزاوار تھا۔پس بھلانے کے نتیجے میں کچھ اور واقعات ہونے چاہئیں۔کچھ ایسی باتیں رونما ہونی چاہئیں جس کے نتیجے میں انسانی فطرت مطمئن ہو کہ ہاں ایسا شخص زیادہ سزا کا مستحق ہے۔تو اسی مضمون کو خدا تعالیٰ پھر اگلی آیات میں کھولتا ہے فرماتا ہے: ذلِكُمْ بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ أَيْتِ اللهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا یہ صرف اس لئے نہیں کہ تم نے خدا کو بھلا دیا ، اسے یاد نہیں کیا بلکہ اس حد تک بھلا دیا کہ تم نے خدا تعالیٰ کے نشانات کو مذاق کا نشانہ بنایا اور ان سے تمسخر کرنا شروع کر دیا۔پس یہاں بھلانے سے مراد محض کسی دوست کو بھلا دینا نہیں یا کسی فوت شدہ کو بھلا دینا نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اس سے بے خوف ہو جانا اور دل میں یہ یقین پیدا کر لینا کہ میں کبھی اس کے سامنے پیش نہیں کیا جاؤں گا۔پر لِقَاءَ يَوْمِكُمُ هذا میں اس بات کی وضاحت ہے کہ وہ لوگ جو جرموں پر جرات اختیار کرتے ہیں اور بیباک ہو جاتے ہیں ان کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ دل میں یقین کر بیٹھتے ہیں کہ قیامت ویا مت سب قصے ہیں، ان میں کوئی بھی حقیقت نہیں اور ہم خدا کے حضور پیش نہیں ہوں گے اور کوئی نہیں ہے جو ہماری جواب طلبی کر سکے۔پس اس کے نتیجے میں دو باتیں ، دوسلوک ان سے کئے جائیں گے۔اول یہ کہ چونکہ وہ یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ پیش نہیں کئے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں جرائم پر جرات کرتے ہیں اس لئے جب ان کو سزادی جائے گی تو ان کی پیشی کسی کے سامنے نہیں ہوگی اور دادرسی کے لئے کوئی چوکھٹ نہیں پائیں گے۔يُسْتَعْتَبُوْنَ کا مطلب ہے کسی چوکھٹ تک رسائی پانا۔تو فرمایا کہ وہ تو خود یقین کر چکے