خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 583
خطبات طاہر جلد ۹ 583 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۹۰ء جو ہاتھ میں ہے وہ ٹھیک ہے کل دیکھی جائے گی۔چنانچہ الفاظ تو بہر حال مختلف ہوتے ہیں اور شاعرانہ تخیل کے ساتھ باندھے جاتے ہیں لیکن بنیادی طور پر یہی مضمون ہے جو دنیا کے ہر ادب میں آپ کو ملے گا اور اسی مضمون کو قرآن کریم ایک ٹھوس حقیقت کے طور پر گناہوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ گناہ کا اور دنیا میں جھک جانے کا سب سے بڑا محرک یہ یقین ہے کہ مرنے کے بعد کچھ نہیں ہوگا اور یہ جو لقاء کے قصے ہیں یہ سب فرضی باتیں ہیں اور کہانیاں ہیں۔چنانچہ دراصل ان آیات سے پہلے جو آیات ہیں وہ اسی مضمون کو بیان کر رہی تھیں۔میں نے درمیان سے تلاوت شروع کی اب میں پہلی آیات پڑھ کے سناتا ہوں تا کہ آپ کو ذہن نشین ہو جائے کہ کیا مضمون چل رہا تھا اور قرآن کریم ہمیں کیا سمجھانا چاہتا ہے۔وَأَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ ايَتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ (الجاثية: ۳۲) پس وہ لوگ جنہوں نے انکار کر دیا۔اَفَلَمْ تَكُنْ ايَتِى تُتْلَى عَلَيْكُمْ کیا تمہارے سامنے ہماری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں یا ہماری طرف سے نشانات تمہارے سامنے پیش نہیں کئے جاتے تھے۔فَاسْتَكْبَرُ تُم پس تم نے تکبر سے کام لیا اور تم قوم مجرمین بن گئے۔وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ اور جب ان کے سامنے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کا وعدہ حق ہے۔یقینا سچا ہے وَ السَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا اور قیامت کے متعلق کوئی شک کی گنجائش نہیں۔لازماً ہوگی اور لازماً تمہارا سوال و جواب ہو گا قُلْتُم مَّا نَدْرِئَ مَا السَّاعَةُ تم یہ جواب دیتے ہو کہ ہمیں نہیں پتا کہ قیامت کیا چیز ہے اور ساعت کیا ہوگی۔اِنْ نَّظُنُّ إِلَّا ظَنَّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ہم تو ظنوں میں مبتلاء ہیں خیالات اور توہمات میں مبتلاء ہیں۔مَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ اور ایک بات پختہ ہے کہ ہم ان باتوں پر یقین کرنے والے نہیں۔وَبَدَالَهُمْ سَيَّاتُ مَا عَمِلُوا پس ان کے لئے ان بداعمالیوں کا پھل ظاہر ہو گیا جن میں وہ مبتلاء تھے۔وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ اور ان کا اس چیز نے احاطہ کر لیا جس پر وہ مذاق کیا کرتے تھے۔وَبَدَا لَهُمْ سَيَاتٌ مَا عَمِلُوا نے اس مضمون کو خوب اچھی طرح کھول دیا ہے کہ محض عقائد کی بناء پر کوئی شخص پکڑا نہیں جاتا بلکہ عقائد کے نتیجے میں جو بداعمالیاں پیدا ہوتی ہیں ان کے نتیجے میں پکڑا جاتا ہے اور ہر عقیدے کے ساتھ کچھ بداعمالیوں کا تعلق ہوتا ہے۔پس