خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 568 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 568

خطبات طاہر جلد ۹ 568 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۹۰ء کرنی ہے۔تو جب بھی ایسی ضرورت پیش آئے مالی قربانی سے متعلق تحریک کرنے کا خیال دل میں پیدا ہو جاتا ہے لیکن مجھے اس دن یہ خیال آیا کہ جماعت کو اپنے طور پر اور ہر فرد کو اپنے طور پر ایک ضرورت ہے جسے کبھی ہمیں بھلانا نہیں چاہئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف جماعت کی ضرورت کے پیش نظر مالی قربانی کی تحریک ہوتی تو خدا تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ غنی ہے اور تم فقراء ہو۔خدا تعالیٰ کی عطا کے ہزار ہا رستے ہیں وہی سب کو دیتا ہے وہ اپنے دین کی ضرورتیں خود پوری کر سکتا تھا۔اس فلسفے کو بعض لوگ نہیں سمجھتے اور اس کی وجہ سے بعض ٹھوکر میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض شبہات میں مبتلا رہتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ مالی قربانی کا حکم قرآن کریم میں جو بار بار دیا گیا ہے یہ اس ضرورت کے پیش نظر ہے کہ مالی قربانی سے لوگوں کا تزکیہ ہوتا ہے ،لوگوں کے اندر پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔مومن کو مزید تقویٰ نصیب ہوتا ہے اور قوم کی اصلاح ہوتی ہے اور قوم میں ایک نئی زندگی پیدا ہوتی ہے اور بہت سی دوسری بدیوں سے چھٹکارے کی توفیق ملتی ہے۔مالی قربانی کی اس ضرورت کو اگر آپ پیش نظر رکھیں تو ہر دور میں ہمیشہ جماعت کا ایک نہ ایک طبقہ ضرور ایسا رہتا ہے جسے مالی قربانی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اس ضرورت سے محروم ہے کیونکہ ان باتوں کو وہ سمجھتا نہیں۔پس اس دن مجھے خیال آیا کہ مرکزی ضرورتیں اللہ کے فضل سے اس طرح پوری ہوتی چلی جارہی ہیں کہ اس پہلو سے اگر مجھے یاد دہانی کا خیال نہ بھی آئے تو اصل قربانی کا جو فلسفہ ہے، جو قربانی کی اصل روح ہے اس کے پیش نظر لا زما مجھے بار بار جماعت کو یاد دہانی کروانی چاہئے اور مالی فلسفے کو بیان کر کے متوجہ کرنا چاہیئے کہ خدا کی زبان میں اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ (فاطر (۱۲) تم فقیر ہو۔اگر تم مالی قربانی نہیں کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے پس فقراء کا مطلب یہاں یہ ہے کہ تم محتاج ہو۔اگر خدا کی خاطر تم اپنے اموال پیش نہیں کرو گے تو تمہیں شدید نقصانات پہنچیں گے اور جہاں تک میرا تجربہ ہے اور وسیع تجربہ ہے اور جہاں تک میں نے تاریخ کا بھی مطالعہ کیا ہے یہ نقصانات کئی انواع کے ہیں۔ایک تو قرآن کریم نے لفظ زکوۃ کو مالی قربانی سے باندھا ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دو حصے اس کے ایسے ہیں جو آپ کو پیش نظر رکھنے چاہئیں ایک یہ کہ یہ بڑھنے والی چیز ہے۔پس اگر کسی قوم کے اموال میں برکت کی ضرورت ہو یعنی قومی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوتو