خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 569 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 569

خطبات طاہر جلد ۹ 569 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء قرآن کریم کی رو سے اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والی قو میں ہمیشہ پہلے سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہیں۔اس پہلو سے میں نے افریقہ میں جن علاقوں میں تیزی سے جماعت پھیل رہی ہے اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جہاں سخت غربت ہے وہاں تاکید کی کہ ایک غربت کا علاج کرنے کی ہم کوشش کر رہے ہیں افریقہ کی تحریک ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا اور صنعتوں کے قیام کی کوشش ہے، افریقہ سے تجارت کو بڑھانے کی کوشش ہے اور ذرائع اختیار کئے جارہے ہیں مگر ہماری توفیق اتنی تھوڑی ہے اور ہمارے پاس اس فن کے ماہرین جو جماعت کو مہیا ہو سکتے ہیں وہ اتنے تھوڑے ہیں کہ افریقہ کی ضرورت کے مقابل پر سمندر کے سامنے قطرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔تو اس پر مجھے خیال آیا کہ خدا نے اصل گر خود سمجھا دیا ہے اسی گر کو پکڑنا چاہئے اور اس کو جماعت کے سامنے کھول کر رکھنا چاہئے چنانچہ میں نے افریقہ کے مبلغین کو تاکید کی کہ اگر تم نے ان نئے آنے والوں کو ان کی غربت کی وجہ سے چندے کی تحریک نہ کی اور اپنی طرف سے ان پر رحم کیا تو ان پر تم سخت ظلم کرنے والے ہو گے۔افریقہ کی اقتصادی حالت کو تم نہیں بدل سکتے مگر خدا تبدیل کر سکتا ہے اور قرآن کریم نے ہمیں یہ نکتہ سکھایا ہے کہ جو خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں بے انتہاء برکتیں بخشتا ہے۔دور اول میں یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی عمل اللہ کے دور میں مسلمانوں کی جو ابتدائی حالت تھی وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ایسی غربت تھی کہ آنحضرت ﷺ کو بھی فاقے پڑتے تھے اور آپ کی ازواج مطہرات کو بھی اور آپ کے خاندان کو بھی جو مکے کے معزز ترین خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد تھے اور اسی طرح آپ کے صحابہ کو بھی بہت چند ایک تھے جن کو خدا تعالیٰ نے بعض پہلوؤں سے دنیاوی طور پر دولت عطا کی تھی ورنہ تو سب سے دولتمند وہی تھے جو حضرت محمد مصطفی عے دنیا کو دولتیں تقسیم کرنے آئے تھے۔بہر حال دنیاوی دولت کے لحاظ سے بعض تھے مگر سوسائٹی کی بھاری اکثریت ایسی تھی جو غربت کی حالت میں زندگی بسر کر رہی تھی۔مدینے میں جا کر بھی کم و بیش یہی حال رہا۔اصحاب الصفہ کا حال آپ جانتے ہیں کہ کس طرح ایک بڑی تعدا د صحابہ کی مسجد کے صحن میں اس کے کنارے جو بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی تھیں وہاں پڑے رہتے تھے اور دن کو تلاوت کی ، قرآن کریم کی، دین کی باتیں کیں اور اسی حالت میں اور وہیں رات بسر کرتے تھے اور کوئی ذریعہ معاش صلى الله