خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد ۹ 50 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔پس ایمان کی کیفیت بنیادی طور پر چاہے ایک ہی ہولیکن اس کی کمیت میں فرق پڑتا چلا جاتا ہے اور یہ ایمان بڑھنے والی چیز ہے اور کم ہونے والی چیز بھی ہے۔اس لئے ہمیشہ اس پر نگران رہنا پڑتا ہے حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ایک دولتمند آدمی کا دولت کا تصور ایک انسان میں اور ہوگا اور دوسرے انسان میں اور ہوگا۔ایک غریب انسان چند سو روپے ماہانہ کے اضافے کو بھی دولت سمجھ لیتا ہے اور ایک امیر انسان بعض دفعہ لاکھوں کے اضافے کو بھی دولت نہیں سمجھتا اس کی خواہش کروڑوں تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔پس ایمان کی بھی ایسی ہی کیفیت ہے۔ہرانسان کا ایمان اس کی حیثیت کے مطابق ایک اہمیت اختیار کرتا ہے اور اس کا ایمان کا تصور اس کی اپنی حیثیت سے تعلق رکھتا ہے، اس کا ایک گہرا رشتہ ہے۔فکر هر کس بقدر هست اوست۔،، ہر شخص کے تصور کی چھلانگ اس کی اپنی ہمت کے مطابق ہوا کرتی ہے لیکن یہ بہر حال ایک قطعی حقیقت ہے کہ ایمان کم بھی ہوتا ہے، بڑھتا بھی ہے اور قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ہمیں مسلسل اس کی نگرانی کرنی چاہئے۔یہی حال اسلام کا ہے اسلام اور ایمان اپنے بلند تر مقامات پر جا کر ایک ہی چیز ہو جاتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہے لیکن آغاز میں دو الگ الگ راستے دکھائی دیتے ہیں۔بعض دفعہ آغاز میں اسلام اور ایمان کا بظاہر کوئی تعلق نہیں ہوتا یعنی بیک وقت دونوں موجود نہیں ہوتے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات : ۱۵) بدو جو مدینے کے گرد بستے تھے انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ کہہ دے: لَّمْ تُؤْمِنُوا تم ہرگز ایمان نہیں لائے۔وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا ہاں تم بیشک یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں ہم نے اطاعت کو قبول کر لیا ہے۔وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ في قُلُوبِكُم حالانکہ ابھی تک ایمان نے تمہارے دل میں جھانک کر بھی نہیں دیکھا۔تو آغاز میں ایمان اور اسلام دو الگ الگ چیزیں ہوسکتی ہیں۔لیکن در حقیقت جب یہ دونوں ترقی کرتے ہیں تو بلند تر سطح پر پہنچ کر یہ دونوں ایک ہی چیز ہو جاتے ہیں اور اول المومنین اور اول المسلمین ایک ہی