خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 51
خطبات طاہر جلد ۹ 51 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء انسان پر صادق آنے والی دوصفات ہیں اور ان دونوں کے درمیان تفریق ممکن نہیں رہتی۔ایمان بہر حال اولیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اسلام جو ایمان کے بغیر ہے وہ اس دنیا میں تو فائدہ دے سکتا ہے مگر دوسرے جہان میں فائدہ نہیں دے سکتا۔وہ اسلام جو ایمان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے وہی دراصل حقیقی اسلام ہے، چاہے آغاز میں وہ کمزور اور معمولی ہی کیوں نہ ہو۔آج میں اسلام سے متعلق چند باتیں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔لفظ اسلام کا مطلب ہے : قبول کر لینا یا سپر د کر دینا اطاعت اختیار کر لینا۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے فرمایا: اسلم قال أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ (البقرہ :۱۳۲) کہ اے ابراہیم ! اسلام لے آ۔کہا میں تو اپنے رب پر اسلام لے آیا۔یعنی معابعد یہ فرمایا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کا جو مقام اسلام ہے اس میں بھی بڑے مراتب ہیں باوجود اس کے کہ حضرت اقدس ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اپنے زمانے میں اسلام کے علمبردار تھے اور ایسے عظیم الشان اسلام کے علمبردار تھے کہ قیامت تک قرآن کریم کی رو سے آپ کے اسلام کو دنیا خراج تحسین پیش کرتی رہے گی۔اس زمانے میں بے مثل تھے اور بعد میں تمام مسلمانوں کے باپ بھی کہلائے۔پس اس پہلو سے خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم کو مخاطب کر کے فرمانا اسلم کوئی معنی رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء میں بھی اسلام کی بلند تر حالتیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں اور اسلام کا وہ آخری مقام جس کے بعد پھر اسلام کا کوئی مقام نہیں رہتا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا اسلام ہے۔اس پہلو سے تو گفتگو کا یہاں اس وقت موقع نہیں اور یہ بہت ہی وسیع مضمون ہے کہ انبیاء کے اسلام میں کیا فرق ہوتے ہیں اور کس طرح انبیاء کے اسلام ترقی کرتے ہیں صلى الله اور کیوں حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ اسلام کے آخری زینے پر تھے۔میں اس وقت عام نصیحت کے طور پر آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھنا چاہتا ہوں یہ بتانے کے لئے کہ ہر وہ احمدی جوایمان لے آیا اور اس کا اسلام لانا بہت ضروری ہے کیونکہ ایمان جیسا کہ میں پہلے خطبے میں بیان کر چکا ہوں، خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے بھیجے ہوؤں پر یقین کو کہتے ہیں۔اور جتنا جتنا ایمان ترقی کرتا ہے اتنا ہی عرفان ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور ایمان اور عرفان کی ترقی کے ساتھ اطاعت میں نئے رنگ پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں یعنی اس کی روشنی میں پھر اسلام بھی ترقی کرتا