خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد ۹ 49 49 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء ایمان اور اسلام کے درجوں کی حقیقت جماعت کو ٹولیوں میں تقسیم نہ کریں ( خطبه جمعه فرموده ۲۶ / جنوری ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کی : فَلَمَّا جَاءَتْ قِيْلَ أَهْكَذَا عَرْشُكِ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ وَأُوتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيْنَ وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمِهِ كَفِرِيْنَ قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي القَرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُ صَرُحُ مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل: ۴۳ تا ۴۵) پھر فرمایا: میں نے گزشتہ خطبے میں ایمان سے متعلق احباب جماعت کے سامنے مضمون رکھا تھا کہ بظاہر ایمان ایک ہی چیز کو کہتے ہیں لیکن در حقیقت ہر انسان میں ایمان مختلف درجے کا پایا جاتا ہے اور ایمان کے بے شمار مراتب اور درجات ہیں۔جس طرح پانی ایک ہی چیز کا نام ہے لیکن چھوٹے برتن میں تھوڑا پانی آتا ہے بڑے برتن میں زیادہ پانی آتا ہے۔مختلف شکلوں کے برتنوں میں پانی