خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 501

خطبات طاہر جلد ۹ 501 خطبه جمعه ۳۱ / اگست ۱۹۹۰ء اس کی رو سے وہ شخص سز انہیں پائے گا بلکہ جزا پائے گا اور اسی طرح نیکیوں کا معاملہ ہے۔اگر وہ نیک عمل کر رہا ہو لیکن نیست بری ہو تو ایسے نیک اعمال کی بری جزا ملے گی۔یہ جزاء کا معاملہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا تعالیٰ کے ایسے فیصلے سے تعلق رکھتا ہے جو بالعموم یوم جزاء سزا میں ظاہر ہوگا اور اس کا ایک تعلق قانون طبعی سے ہے اور قانون طبعی بھی خدا کے مزاج کے مطابق ہے اس لئے اگر آپ گہرا غور کر کے دیکھیں تو قانون طبعی بھی دراصل ایسے ہی نتائج ظاہر کرتا ہے جن کا اعمال سے بڑھ کر نیتوں سے تعلق ہو۔مثلاً دنیا میں امن کے نام پر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے بہت بڑی بڑی کوششیں سرانجام دی ہیں اور بڑے بڑے فیصلے کئے ہیں بعض اوقات جنگیں بھی کی گئی ہیں لیکن مقصد یہ بتایا گیا کہ امن کا قیام پیش نظر تھا اس لئے بعض صورتوں میں جنگ ضروری ہوگئی تھی۔اگر تو واقعہ نیت امن کا قیام ہو اور انصاف کے ساتھ تمام ایسے معاملات میں جہاں امن کو خطرہ درپیش ہو ویسا ہی رد عمل ظاہر ہوتا ہے جو نیک نیت کے نتیجے میں ظاہر ہونا چاہئے تو یقیناً ان کوششوں کے نتیجے میں دنیا میں ایک دیر پا امن قائم ہوسکتا ہے مگر بار بار کی ایسی کوششوں کے باوجود جو گزشتہ تقریباً ایک صدی پر پھیلی پڑی ہیں دنیا آج تک امن سے محروم چلی آرہی ہے اور خطرات ہیں کہ دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ایک خطرے کو ٹالا جاتا ہے تو دوسرا خطرہ سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور دنیا کو وہ امن نصیب نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں دل و جان کو چین ملتا ہے بلکہ ظاہری امن کے باوجود دنیا بے چین دکھائی دیتی ہے اور بے قراری ہے کہ بڑھتی چلی جارہی ہے۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ قانون کہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے یہ در پردہ کام کرتا چلا جارہا ہے خواہ ان لوگوں کو محسوس ہو یا نہ ہو۔چنانچہ نیتوں میں چونکہ فساد ہوتا ہے اور خود غرضیاں ہوتی ہیں اس لئے امن کے نام پر کئے جانے والے سب فیصلوں میں رخنے پڑ جاتے ہیں۔پس اعمال کا دارو مدار نیات پر ہونے کا ایک مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر نیتوں میں فساد ہو تو اعمال اس فساد سے بچ نہیں سکتے اور جلد یا بدیران اعمال پر ان بد نیتوں کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ان اعمال میں ایسا رخنہ پڑ جاتا ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ صالح اعمال نہیں کہلا سکتے اور ان کے نتیجہ میں نیک نتائج نہیں نکل سکتے۔اسی طرح بدی کی بات ہے جو دنیا کو بدی نظر آتی ہو لیکن نیت نیک ہو اس کی بھی بہت سی