خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 500

خطبات طاہر جلد ۹ 500 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء طبعی قانون میں آنحضرت ﷺ کا بتایا ہوا یہ بنیادی اصول یکساں کارگر ہے۔اس کے بہت سے پہلو ہیں جو عام طور پر معلوم ہیں وہ تو یہ ہیں کہ اس ارشاد کا تعلق اجر سے ہے اور عموماً لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی مراد اتنی ہی تھی کہ جو شخص جس نیت سے کوئی عمل کرے گا اس کے مطابق اس کو اجر ملے گا اور وہ عمل خواہ بظاہر نیک ہوا گر نیت بد ہے تو خدا کے ہاں وہ اپنے بد عمل کی جزا پائے گا اور عمل بظاہر دنیا کو برا دکھائی دیتا ہو لیکن اگر نیت نیک ہوتو اس کی خدا کے ہاں اچھی جزا عطا ہوگی۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں یعنی دوسرے حصے کی مگر قرآن کریم نے بعض مثالیں اس واقعہ میں پیش فرمائی ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو پیش آیا۔ان کو ایک ایسے بزرگ ساتھی کے ساتھ سفر کا موقعہ ملا جنہوں نے ظاہری طور پر بار بار ایسی حرکات کیں جو دنیا کی نظر میں معیوب اور نا پسندیدہ تھیں اور اس ارتکاب کی حالت میں اگر وہ پکڑے جاتے تو دنیا کا قانون ان کو سزا دیتا۔مثلاً راہ چلتے کسی کی کشتی کو اس طرح توڑ دینا کہ وہ سمندری یا دریائی سفر کے قابل نہ رہے اور ناکارہ ہو جائے یہ وہ ایک فعل ہے جو دنیا کے لحاظ سے قابل مواخذہ ہے یا کسی بچے کوقتل کردینا یہ اور بھی زیادہ قابل مواخذہ بات ہے اور ان دونوں معاملات میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بات کھولی گئی تو معلوم ہوا کہ نہ صرف نیتیں نیک تھیں بلکہ عملاً خدا کے اذن پر ایسا ہورہا تھا اور وہ ایک عارف باللہ بزرگ تھے جو اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرتے تھے بلکہ خدا کے اذن کے مطابق وہ معاملات طے کیا کرتے تھے۔اس معاملے کو جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے بعض فیصلوں پر اطلاق کر کے دیکھیں تو ان کی حکمت سمجھ آجاتی ہے۔دنیا کی نظر میں آج بھی آپ کے بعض ایسے ارشادات قابل مواخذہ ہیں کہ جن کی رو سے آپ نے بعض شریروں کے قتل کا حکم دیا۔درحقیقت وہ بزرگ جو کشفاً حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھائے گئے تھے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ ہی تھے اور جو تجربے بیان کئے گئے ہیں ان کی گہری حکمتیں آنحضرت ﷺ کی سیرت اور آپ کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات پر غور کرنے سے معلوم ہوسکتی ہیں۔بہر حال عام طور پر اس ارشاد نبوی کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ مراد صرف اتنی ہے کہ جزاء عمل پر نہیں بلکہ اس نیت پر مترتب ہوگی جو عمل سے پہلے ہے۔ظاہری طور پر خواہ بدی کی گئی ہو خدا جانتا ہے کہ وہ فعل کرنے والے کی نیت کیا تھی اس لئے قیامت کے دن یا دنیا میں ہی جو قانون قدرت ہے