خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 471

خطبات طاہر جلد ۹ 471 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء نے ہرگز کھانے پینے کی اور ضروریات زندگی کی اشیاء کو بائیکاٹ میں شامل نہیں کیا تھا۔ دوسرے یونائیٹڈ نیشنز نے ہرگز یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اگر کوئی ملک بائیکاٹ نہ کرنا چاہے تو اُسے زبر دستی بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اب ان دونوں باتوں میں امریکہ بھی اور انگلستان بھی یہ کھلی کھلی دھاندلی کر رہے ہیں ۔ ایک طرف عراق پر بداخلاقی کا الزام ہے جو ہم مانتے ہیں کہ اسلامی نقطۂ نظر سے بداخلاقی ہے، لیکن دوسری طرف اس دوسرے سانس میں خود ایک ایسی خوفناک بداخلاقی کے مرتکب ہوتے ہیں جو بظاہر ڈپلومیسی کی زبان میں لپٹی ہوئی اور اتنی نمایاں طور پر خوفناک دکھائی نہیں دیتی مگر امر واقعہ یہ ہے کہ بغداد کی حکومت نے جو چار ہزار انگریز اور دو ہزار امریکن یا اس کے لگ بھگ جتنے بھی ہیں اُن لوگوں کو پکڑ کر اپنے پاس Hostage کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ اگر ان کو بالآخر خدانخواستہ ظالمانہ طور پر وہ ہلاک بھی کر دیں تو بھی یہ ظلم جو انگریز اور امریکہ مل کر عراق پر کر رہے ہیں یہ اُس سے بہت زیادہ بھیانک جرم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اب اس جرم کے دائرے میں یعنی اس جرم کے نشانے کے طور پر Jorden کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ شرق اردن ایک ایسا ملک ہے جو ہمیشہ مغرب کا وفادار رہا ہے بلکہ قابلِ شرم حد تک وفادار رہا ہے اور سب سے زیادہ وفادار اس علاقے میں جو اسلامی ریاست تھی وہ یہی ریاست تھی۔ ویسے تو وفا میں سعودی عرب ان سے بڑھ کر ہے لیکن اس کا معاملہ صرف وفا کا نہیں ۔ سعودی عرب کے تمام مفادات امریکن مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور ایک ہی چیز کے دو نام بنے ہوئے ہیں اس لئے وہاں وفا کا سوال نہیں مگر شرق اردن جو ایک چھوٹا ملک ہے، یہ واقعہ ایک لمبے عرصے سے مغربی دنیا کا مشہور وفادار ملک چلا آ رہا ہے۔ انگریزوں کے ساتھ بھی گہرے دوستانہ بلکہ برادرانہ مراسم ، امریکنوں کے ساتھ بھی اور اب تک ان کی اپنی فہرستوں میں اس ملک کا نام ہمیشہ وفاداروں میں سر فہرست رکھا جاتا رہا۔ شرقِ اُردن کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ عراق کے ساتھ اقتصادی بائیکاٹ کرے تو خود مرتا ہے اور اس کے لئے زندگی کا کوئی اور چارہ نہیں رہتا اور پھر اگر اس کے نتیجے میں عراق اسے بہانہ بنا کر اس پر قبضہ کرنا چاہے تو شرق اردن میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ چند گھنٹے اُس کا مقابلہ کر سکے اس لئے اُن کی یہ مجبوری ہے مگر اس مجبوری کو کلیۂ نظر انداز کرتے ہوئے مغرب نے شرق اردن کو بھی اپنے جرم کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر تم نے