خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 472
خطبات طاہر جلد ۹ 472 خطبه جمعه ۷ اراگست ۱۹۹۰ء عراق کا Blockage کرنے میں ہماری مدد نہ کی تو ہم تمہارا Blockage کریں گے اور اس Blockage میں چونکہ خوراک شامل ہے اس لئے بے شمار انسانوں کو ایڑیاں رگڑ رگڑا کر بھوکوں مارنے کا منصوبہ ہے یہاں تک کہ وہ کلیہ ذلیل اور رسوا ہو کر اپنے ہر مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے۔خواہ وہ مبنی بر انصاف ہو یا مبنی بر انصاف نہ ہو اور صرف یہی نہیں اس کے بعد اور بھی بہت سے بدارادے ہیں جن کے تصور سے بھی انسان کی رُوح کانپ اُٹھتی ہے۔اس لئے سوال یہ ہے کہ کہاں انصاف ہے؟ مغربی دنیا چونکہ ڈپلومیسی جس کو اسلامی اصطلاح میں دجل کہا جاتا ہے، دجل میں ایک درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہے، آج تک بنی نوع انسان میں کبھی دجل کو اس بلندی تک نہیں پہنچایا گیا جس بلندی تک آج کی مغربی دنیا ڈپلومیسی اور سیاست کے نام پر دجل کو اپنے عروج تک پہنچا چکی ہے اس لئے اُن کے جرائم ہمیشہ پردوں میں لیٹے رہتے ہیں، ان کی زبان میں سلاست ہوتی ہے اور پروپیگنڈے کے زور سے اپنی باتیں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ان میں کچھ معقولیت دکھائی دینے لگتی ہے۔بہر حال ایک طرف تو یہ حال ہے کہ یہ جو بحران ہے وہ دن بدن گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے اور بہت سے خطرات ایسے ہیں جو سر اُٹھا کر ظاہر ہونے لگے ہیں اور بہت سے ایسے خطرات ہیں جو ابھی سرا نا نہیں اُٹھا سکے کہ عام انسانی نظر اُن کو دیکھ سکے لیکن اگر آپ گہری نظر سے مطالعہ کریں تو آپ کو وہ دکھائی بھی دے سکتے ہیں۔ہمارا ایک چھوٹا سا مچھلیوں کا تالاب ہوا کرتا تھا، جب ہم وہاں جاتے تھے تو پہلی نظر سے تو صرف پانی کی سطح دکھائی دیا کرتی تھی پھر وہ مچھلیاں نظر آنے لگتی تھیں جو Surface کے قریب یعنی سطح کے قریب آکر سر ٹکراتی ہیں لیکن جب غور سے دیکھتے تھے تو پھر سطح سے نیچے تہہ تک آہستہ آہستہ وہ مچھلیاں بھی دکھائی دینے لگتی تھیں جو پہلی اور دوسری نظر میں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔تو دُنیا کے سیاسی معاملات کا بھی یہی حال ہو ا کرتا ہے۔ایک سطحی نظر ہے جس سے عوام الناس دیکھتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد اُن کو وہ سر اٹھاتی ہوئی مچھلیاں بھی دکھائی دینے لگتی ہیں لیکن اگر مومن کی نظر سے اور فراست کی نظر سے دیکھا جائے تو پاتال تک کے حالات دکھائی دینے لگتے ہیں۔اس پہلو سے ابھی بہت سے خطرات ایسے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں ہوئے اور وقت اُن کو ظاہر کرے گالیکن میری دُعا ہے اور میں آپ کو بھی اس دُعا میں شامل کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان خطرات کو