خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد ۹ 470 خطبہ جمعہ ۷ اراگست ۱۹۹۰ء دوسری طرف عراق بھی جو اسلامی انصاف کے تقاضے ہیں اُن پر پورا نہیں اتر رہا۔اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ خواہ لڑائی ہو اور خواہ جس قوم سے تمہاری لڑائی ہورہی ہے، اُس قوم سے تعلق رکھنے والے لڑائی کے دوران تمہارے مُلک میں آباد ہوں تم ان کو کسی قسم کا Hostage بناؤ کسی قسم کی سودا بازی کے لئے ان کو استعمال کر دیا اُن پر کوئی ایسا ظلم کرو جو تقوی کے خلاف ہے یعنی ظلم فی ذاتہ تقویٰ کے خلاف ہے۔مراد یہ ہے کہ اُن کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی سے اسلام منع کرتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ساری زندگی اور اس زندگی میں ہونے والے تمام غزوے گواہ ہیں کہ ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ جس قوم کے ساتھ اسلام کی فوجیں برسر پرکار تھیں اُن کے آدمی جو مسلمانوں کے قبضہ قدرت میں تھے اُن سے ایک ادنی بھی زیادتی ہوئی ہو، وہ کلیہ آزاد تھے۔جس طرح چاہتے زندگی بسر کرتے اور کسی ایک شخص نے کسی فرد واحد نے بھی اُن پر کبھی کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ اسلام تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر کوئی پناہ مانگتا ہے تو خواہ وہ دشمن قوم سے تعلق رکھنے والا ہو اُس کو پناہ دو لیکن عراق نے اسلام کے اس اعلیٰ اخلاق کے پیمانے کوکلیۂ نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام برٹش قوم سے تعلق رکھنے والے جو کسی حیثیت سے کویت میں یا عراق میں زندگی بسر کر رہے تھے اور تمام امریکن جوان علاقوں میں موجود تھے اُن کو نہ ملک چھوڑنے کی اجازت ہے، نہ اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت ہے، وہ فلاں فلاں ہوٹل میں اکٹھے ہو جائیں۔اسی طرح دیگر غیر ملکیوں کو بھی جو اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔اب ظاہر بات ہے کہ جس طرح یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، ان کو Hostages کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔اب یہ بات اپنی ذات میں کلیہ اسلامی اخلاق تو در کنار، دنیا کے عام مروجہ اخلاق کے بھی خلاف ہے اس لئے اخلاق ہیں کہاں؟ آج کی سیاست میں کونسا ایک ملک ہے خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی ہو جس کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہوں کہ یہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہویا اسلامی اخلاق کے ادنی معیار پر بھی پورا اُترتا ہو۔ہر طرف رخنے ہیں۔اب حال ہی میں یہ جو Unitednation کے ریزولیوشنز کو بہانہ بنا کر تمام طرف سے عراق کا Blockage کیا گیا یعنی فوجی اقدام کے ذریعے عراق میں چیزوں کا داخلہ بھی بند کیا گیا اور وہاں سے چیزوں کا نکلنا بھی بند کیا گیا۔اس میں دو قسم کی اخلاقی زیادتیاں ہوئی ہیں جو بہت ہی خطرناک ہیں۔ایک یہ کہ یونائیٹڈ نیشنز