خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 438
خطبات طاہر جلد ۹ 438 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن سکتا ہے۔کم فہم کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ مومن سے لوگوں کو کوئی ٹھوکر نہیں لگتی۔وہ مومن جو صاحب فراست ہے، وہ مومن جو حقیقت میں کامل روشنی اور کامل نور کے ساتھ خدا پر ایمان لاتا ہے اُس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا انفِصَامَ لَهَا (البقرہ:۲۵۷) اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا مضبوط ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ کڑا جب اُس پر اُس نے ہاتھ ڈالا یعنی ایمان کا کڑا اور تعلق باللہ کا کڑا نہ وہ کڑا ٹوٹ سکتا ہے اور نہ اس کا ہاتھ چھوٹ سکتا ہے۔پس ایسے اعلیٰ صاحب عرفان لوگ جو نسبتاً کم ہوتے ہیں ان کے لئے تو کسی ٹھوکر کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا مگر بہت سے لوگ ان کے مقابل پر ادنیٰ حالتوں پر ہوتے ہیں اور ابھی ان کا بدیوں سے نیکیوں کی طرف سفر اور اندھیروں سے نور کی طرف سفر اتنا آگے نہیں بڑھا ہوتا کہ وہ مقام محفوظ تک پہنچ چکے ہوں۔ایسے لوگ بعض اوقات ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔پس وہ لوگ جو اپنی کمزوریاں لے کر باہر نکلتے ہیں اور نو مؤمنین سے اُن کو واسطے پڑتے ہیں بعض دفعہ ان کے لئے بہت بڑے ابتلاء کا موجب بن جاتے ہیں اور یہ ابتلاء کئی قسم کے پیش آتے ہیں۔مثلاً ایک اذان دی جاری ہے، نماز کا وقت قریب آ رہا ہے ، دور دور سے مختلف رنگوں اور نسلوں اور قوموں اور زبانیں بولنے والے لوگ نماز کے لئے کوشاں ہورہے ہیں، کوئی وضو کے لئے لپک رہا ہے کوئی ویسے فارغ ہو کر مسجد کی طرف دوڑا چلا جارہا ہے اور دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ جو پاکستان سے آئے ہوئے ہیں وہ اپنی گپوں میں مصروف ہیں ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ خدا کے نام پر ان کو مسجد کی طرف بلایا جارہا ہے۔اب وہ سرسری سی نظر بھی ان کی حالت پر ڈالیں تو وہ سرسری نظر دل پہ گہرا اثر ڈال جاتی ہے اور بعض دلوں پر زخم لگا جاتی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں ہم تو ان کی فکروں میں گھلتے رہے، ہم تو ان کے لئے دنیا میں شور مچاتے رہے کہ ہمارے مومن بھائیوں کا خیال کرو جو خدا کی خاطر خدا کے نام پر اس طرح تکلیف دیئے جارہے ہیں اور ان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ عبادت سے ہی غافل ہیں۔یہ واقعات عملاً ہوتے ہیں۔چنانچہ گزشتہ سال کی بات ہے ایک یورپین مخلص احمدی نے مجھے اسی طرح کا خط لکھا۔اُس میں لکھا کہ میں تو تہجد کے لئے بھی اُٹھتا تھا اور اپنے بھائیوں کو جگاتا بھی تھا لیکن میرے دل پر بڑا زخم لگ گیا ہے کہ بہت سے پاکستانی جو اسی بیرک میں قیام پذیر تھے جس بیرک میں میں ٹھہرا ہوا تھا وہ