خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد ۹ 437 خطبہ جمعہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۹۰ء ہے۔ایمان اگر سچا ہے تو خدا آپ کا ضرور ولی بنے گا اور اگر خداولی بن جائے تو آپ کی ہر آنے والی حالت پہلی حالت سے بہتر ہونی شروع ہو جانی چاہئے۔اگر آنے والی حالت آپ کی بہتر نہ ہو اور اعلیٰ حالت سے ادنی کی طرف حرکت کر رہے ہیں تو یا درکھیں کہ منافقت کی یہ کیفیت قابل مواخذہ ہے اور یہ اس قسم کے منافق وہ لوگ ہیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ بالآخر ان کا بدانجام ہوگا اور وہ کا فرانہ حالتوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔اس ضمن میں مجھے ایک اور بھی فکر پیدا ہوئی۔پاکستان سے جو اس سال مخلصین تشریف لائے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بھاری اکثریت محض اللہ اس سفر کی صعوبت اور سفر کے ایسے اخراجات برداشت کر کے آئی ہے جن کے وہ بظاہر متحمل نہیں تھے اور محض اللہ اس جلسے میں شرکت کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں تا کہ وہ اپنی دیر کی دیرینہ، کئی سال کی پیاس بجھا سکیں لیکن اُن کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی آگئے ہیں جو اعمال کے لحاظ سے اپنے مقام پر بھی اپنے اپنے دیہات میں بھی کمزور تھے اور عدم تربیت یافتہ تھے۔بعض ایسے اضلاع ہیں یعنی پاکستان سے یعنی پنجاب سے خصوصیت کے ساتھ بعض ایسے اضلاع ہیں جہاں تربیت کی کمی محسوس ہوتی ہے اور وہ دیہات جہاں ظاہری طور پر بھی جہالت ہے یعنی علم کی کمی ہے وہاں تربیت کی کمی اور علم کی کمی نے مل کر وہ کیفیت پیدا کر دی ہے جیسا کہ کہتے ہیں کریلا اور نیم چڑھا۔کریلا ہوتا تو کڑواہی ہے لیکن اگر نیم کے درخت پر جو خود بہت کڑوا ہے کریلے کی بیل چڑھا دی جائے تو اُس کریلے کی تلخی عام کریلے کی نسبت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پس ایسے بعض احمدیوں کا یہاں آنا خواہ وہ مرد ہوں یا خواتین ہوں جن کی تربیت میں کمزوریاں رہ گئی ہیں۔باہر سے دوسرے آنے والوں کے لئے بہت خطرات پیدا کر سکتا ہے۔یہاں آنے والے مختلف قسم کے لوگ ہیں۔کچھ ایسے احباب ہیں جو یورپ سے تعلق رکھتے ہیں، کچھ امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں، کچھ افریقہ سے، کچھ مشرق بعید سے، مختلف ممالک سے ہجوم در ہجوم یا اکا دُکا جیسی جیسی کیفیت ہو لوگ یہاں اللہ کی محبت میں چلے آئے ہیں۔وہ اپنے بھائیوں سے کچھ تو قعات لے کر بھی آئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماع محض اللہ ہے اور محض دین کی خاطر منعقد کیا جارہا ہے اور وہ چونکہ یقین رکھتے ہیں کہ سب دور دور سے آنے والے تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے اس لئے اگر وہ ہم میں سے بعض ایسی کمزوریاں دیکھیں جو مؤمنوں کو زیب نہیں دیتیں تو وہ یقیناً ایسے لوگوں میں سے کم فہم