خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 431
خطبات طاہر جلد ۹ 431 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء صداقت اس کے اندر نہیں جاتی اور کفر باہر نہیں نکلتا اور اوندھا رکھا ہوا دل منافق کا دل ہے جو پہلے صداقت کو مان لیتا ہے پھر اس کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے اور وہ دل جو ٹیڑھا رکھا ہوا ہے یا پتھروں میں دبا ہوا ہے وہ اس شخص کا دل ہے جس میں ایمان اور نفاق دونوں پائے جاتے ہیں۔ اس کے ایمان کی حالت تو اچھی سبزی کے مشابہہ ہے جسے پانی مل رہا ہو اور اس کے نفاق کی حالت ایک زخم کی سی ہے جس سے پیپ اور خون بہہ رہے ہوں اور پھر ان دونوں سے جو حالت غالب آجائے وہ اُسی گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ (مسند احمد کتاب باقی مسند المکثرین حدیث نمبر : ۱۰۷۰۵) پس آج میں اس قسم کے منافقین کا ذکر کر کے جماعت کو اپنے اعمال کے متعلق نگران اور خبردار رہنے کی تلقین کرنا چاہتا ہوں ۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کا فر تو بالکل الگ ہیں اور مؤمن بالکل الگ ہیں اور بیچ کی حالت میں دو قسم کے منافقین ہیں ایک وہ جو عقیدے کے لحاظ سے کافر ہوں اور عملاً مؤمنوں کے لبادے میں مؤمنوں کی جماعت میں خفیہ طور پر داخل ہو چکے ہوں یا پہلے ایمان لائے ہوں اور پھر منکر ہو چکے ہوں اور بعض مشکلات کی وجہ سے بعض مصالح کی وجہ سے وہ کھلم کھلا انکار کر کے کفر کی طرف واپس لوٹ نہ سکتے ہوں اور آخری قسم وہی ہے جن کے اعمال ابھی تک درست نہیں ہو سکے ۔ ایمان بھی ہے اور اس کے ساتھ بد اعمالیاں بھی ہیں اور مل جل کر یہ دونوں بیک وقت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ یہ حالت خطرے سے خالی نہیں ہے اور جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ لے نے نتیجہ نکالا کہ اس دوران کسی ایک حالت کو فتح ہو گی اور مرنے سے پہلے ایسا شخص یا ایک طرف کو لڑھک جائے گا یا دوسری طرف کو الٹ کر واضح طور پر یا اس کا انجام کفار پر ہو گا یا مؤمنین پر اور بین بین کی حالت ہمیشہ باقی نہیں رہتی ۔ پس وہ مومن جن کے اعمال میں کمزوری ہوان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال کی مسلسل اصلاح کرتے رہیں اور قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ اصلاح انسان کے اپنے بس کی بات نہیں جب تک ولایت نصیب نہ ہو اُس وقت تک یہ اصلاح ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ ولایت کی جستجو ضروری ہے۔ ولایت کے متعلق بھی یہ خیال ہے کہ وہ شخص جو بہت پہنچا ہو ا بزرگ ہوا سے ہی خدا تعالیٰ کی ولایت نصیب ہوتی ہے یہ درست نہیں ہے۔ اُس کو بھی ولی کہتے ہیں لیکن ہر ایمان لانے والے کو جو سچے دل سے ایمان لاتا ہے ایک طرح سے خدا تعالیٰ کی ولایت نصیب ہو جاتی ہے