خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 430
خطبات طاہر جلد ۹ 430 خطبہ جمعہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۹۰ء لوگ جنہوں نے انکار کیا اُن کے دوست شیاطین ہیں جو اُنہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے رہتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو آگ والے ہیں اور اس آگ میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔جب بھی ہم آجکل منافق کا لفظ سنتے ہیں تو ذہن میں بالعموم ایک اعتقادی منافق ہی آتا ہے اور عام تصور جو منافق کا ذہن میں اُبھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص بظاہر ایمان لا رہا ہولیکن در حقیقت ایمان نہ لاتا ہو اور کسی لالچ کی وجہ سے یا کسی شرارت کی نیت سے وہ ایمان لانے والے گروہ میں داخل ہوا ہو اور اپنے مفادات کی خاطر یا مؤمنوں کی جماعت کو نقصان پہنچانے کی خاطر ایمان کے پردے میں چھپا ہوا کافر ہو۔یہ منافق کی تعریف بھی درست ہے اور قرآن کریم سے قطعی طور پر ثابت ہے لیکن اس کے علاوہ بھی منافقین کا ذکر ملتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اور احادیث نبویہ میں بھی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کی ایک اور قسم ہے جو اعمال کے منافق ہوتے ہیں۔یعنی عقائد کے لحاظ سے وہ جب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے تو ایمان لاتے ہیں لیکن ان کی عملی زندگی میں ایسے اعمال جو صالح نہیں ہیں وہ روزمرہ اُن کی زندگی کا حصہ بنے رہتے ہیں اور مؤمن ہوتے ہوئے بھی ان کے اعمال میں کافرانہ اعمال شامل ہو جاتے ہیں۔پس یہ دوغلا پن یعنی مؤمن ہوتے ہوئے بھی کافروں جیسے اعمال بجالا نامی بھی ایک نفاق ہے جسے ہم عملی نفاق قرار دے سکتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے چار قسم کے دل بیان فرمائے اور اس حدیث نبوی میں بہت کھول کر ان چار قسموں کو الگ الگ کر کے دکھایا گیا ہے۔یعنی وہ لوگ جو کافر ہیں ، وہ لوگ جو منعم ہیں اور وہ لوگ جن کی بیچ کی حالت ہے اور وہ لوگ بھی جو دو قسموں میں منقسم ہیں ایک وہ جن کا میں نے اول طور پر ذکر کیا اور ایک وہ دوسرے جو بین بین کی حالت میں ہیں یعنی ایمان لاتے ہوئے بھی ان کے اعمال مؤمنوں کے سے اعمال نہیں بن سکے۔حضرت ابی سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسانی دل چار قسم کے ہوتے ہیں۔ایک مقفی شفاف تلوار کی طرح سونتا ہوا ، خدمت دین کے لئے تیار اور دوسرا وہ دل ہوتا ہے جس پر غلاف چڑھا ہوا ہوتا ہے اور غلاف بھی وہ جو خوب دوہرا ہوا ہو اور تیسرا وہ دل جو اوندھا رکھا ہوا ہو اور چوتھا وہ دل جو ٹیڑھا رکھا ہوا ہو یا پتھروں کے نیچے دبا ہوا ہو۔وہ جو پہلا دل ہے یعنی صاف ، وہ تو مؤمن کا دل ہے۔اُس کا دیا وہ نور ہے جو اس کے دل میں پیدا ہوا ہے اور وہ دل جو غلاف میں بند ہے کافر کا دل ہے کہ