خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 432
خطبات طاہر جلد ۹ 432 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء اور اسی کے متعلق یہ آیت قرآنی ہے جس کی میں نے تلاوت کی۔اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الULKتِ إِلَى النُّورِ وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں وہ تو اندھیروں سے نکل آئے۔پھر ان کے متعلق یہ کہنا کیا معنے رکھتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لے آئے اللہ اُن کا دوست بن جاتا ہے اور ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا رہتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے کے ساتھ ہی اعمال کی پوری اصلاح نہیں ہوا کرتی بلکہ خلوص دل سے ایمان لانے والوں کو صرف یہ امتیاز اور یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی مدد فرماتا رہتا ہے اور ان کو رفتہ رفتہ کفر کے حالات سے نکال کر ایمان کے حالات ان کو عطا کرتا رہتا ہے۔یعنی عملی زندگی میں بھی ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف منتقل فرماتا رہتا ہے اور اعتقادی لحاظ سے بھی ان کو پہلے کی نسبت زیادہ بصیرت اور زیادہ واضح یقین کی حالت عطا فرماتا ہے اور علم الیقین کو حق الیقین میں بدلتا رہتا ہے۔یہ وہ کیفیت ہے جس کو سمجھنے کے بعد ہر مؤمن کو اپنی فکر کرنی چاہئے اور اپنے اعمال کا اس طرح امتحان لینا چاہئے کہ کیا میں وہ ایمان لایا ہوں جس کے نتیجے میں خدا میرا ولی بن چکا ہو اور کیا دن بدن میرا رُخ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ہے یا نہیں ہے۔چنانچہ جب مؤمنوں کی جماعت پر ہم اس طرح سے نظر ڈالتے ہیں تو اگر چہ بد اعمالیاں کسی نہ کسی رنگ میں ہر اس سالک کی زندگی میں پائی جاتی ہیں جو نیکی کی طرف یا خدا کی طرف حرکت کر رہا ہے اور بد اعمالیاں ان منافقین میں بھی پائی جاتی ہیں جن کے اندر کچھ اخلاص کی کمی کی وجہ سے یا اور ایسی بدیوں کی وجہ سے ان کے ایمان زخم خوردہ ہوچکے ہوتے ہیں اور اگر چہ مؤمن رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بدیوں کی طرف ان کا رجحان بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس مؤمنوں کی سوسائٹی میں اس قسم کی حالت کے انسان آپ کو ہر جگہ دکھائی دیں گے لیکن ان دونوں حالتوں پر نفاق کا لفظ اطلاق نہیں پاتا۔یہ مضمون میں آپ پر اچھی طرح کھولنا چاہتا ہوں۔کچھ ایسے مؤمن بھی ملیں گے جن کے اعمال کمزور ہیں لیکن ان کو خدا کی ولایت نصیب ہوتی ہے۔کچھ ایسے مؤمن بھی نظر آئیں گے یا مؤمنوں کی سوسائٹی میں ایسے لوگ بھی دکھائی دیں گے جن کے اعمال کمزور ہیں لیکن انہیں اللہ کی ولایت نصیب نہیں ہے۔ان دونوں کے درمیان ایک بہت بڑا فرق ہے اور فرق یہ ہے کہ وہ مؤمن جو کمزور اعمال ہیں مگر ولایت نصیب ہے وہ دن بدن سدھرتے چلے جاتے