خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 424
خطبات طاہر جلد ۹ 424 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔تو وہاں نسبتی لحاظ سے وہ نظام جو بظاہر دین ہی کا حصہ ہے عبادت کے مقابل پر دنیا بن جاتا ہے اور یہ دین اور دنیا کا رشتہ اسی طرح چلتا چلا جاتا ہے۔بار یک درباریک ہوتا چلا جاتا ہے۔اعلیٰ سے اعلیٰ دینی فرائض میں بھی آپس میں ایک تناسب ہوتا ہے۔اوپر کے درجہ کا دینی پھل نچلے درجے پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔پس نماز با جماعت کے قیام کی طرف سارے منتظمین توجہ رکھیں اور ایک تربیت کا نظام ہے وہ تو اپنی جگہ کام کرے گا لیکن ہر افسر شعبہ کا کام ہے کہ اُس کے ماتحت افسران اور معاونین سب با قاعدہ نماز پڑھتے ہیں اگر ممکن ہو تو اُن کے لئے چھوٹی باجماعت نمازوں کا شعبہ وارا انتظام کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بعض وقت باجماعت نماز میں شامل نہیں ہو سکتے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی دوران جہاد آدھے مجاہدین شامل نہیں ہو سکتے تھے مگر وہ جو صورت ہے کہ وہ آدھی نماز پڑھیں اور پھر واپس چلے جائیں پھر دوسرے آدھی نماز پڑھیں وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاص ہے اُس کو ہم عام نہیں کر سکتے۔اس لئے یا آپ نماز پڑھ سکیں گے باجماعت یا نہیں پڑھ سکیں گے دو ہی صورتیں ہیں۔وہ جو صورت تھی جو میں نے بیان کی ہے اُس کے اندر ایک اور فلسفہ ہے جسے آپ کو سمجھنا چاہئے۔جہاد کے وقت ہر شخص کو اپنی زندگی کے متعلق بے یقینی ہوتی تھی اور سب سے بڑی خواہش صحابہ کی اپنی زندگی کی آخری خواہش یہ ہوا کرتی تھی کہ ہمیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز کی تو فیق مل جائے۔پس یہ جو نظام بیان کیا گیا ہے یہ کوئی جلد بازی میں تجویز کیا ہوا نظام نہیں ہے بلکہ ایسا حیرت انگیز حکمت پر مبنی نظام ہے جس کو دنیا دار سمجھ ہی نہیں سکتے۔ایک دنیا دار جرنیل کے دماغ میں بھی نہیں آسکتی اس کے خواب میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ جنگ کے دوران کسی کو پیچھے بلا کر آدھوں کو پہلے چرچ میں بلا ؤ پھر دوسروں کو بلاؤ پھر وہ پہلے واپس آئیں پھر دوسرے واپس آئیں۔وہ کہے گا یہ کیا چکر ہے یہ تو بالکل بے معنی اور بے حقیقت بات ہے۔مگر عظمت کس چیز کی ہے دلوں میں؟ یہ ہے فیصلہ کن بات اور قرآن کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور صحابہ رضوان الہ علیہم کی سچائی کی کتنی بڑی دلیل اس چھوٹے سے حکم میں مضمر ہے۔بلا استثناء، بلا شبہ سب سے بڑی عظمت اُس وقت عبادت کو حاصل تھی اور وہ عبادت جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پڑھی