خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد ۹ 420 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء آجائے پھر اس کی ضد بھی ٹوٹ جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مناظروں میں بھی اس فن کو نہایت ہی عمدگی اور پاکیزگی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔تو آپ بھی بحیثیت کا رکن اپنی مجلسوں میں جہاں تھکاوٹ دور کرنی ہو یا کسی کا غصہ ہٹانا ہو تو لطیف مزاح سے بے شک کام لیں۔Tension نہ پیدا کریں یعنی اعصابی تناؤ۔جن کا رکنوں میں اعصابی تناؤ پیدا ہو جائے پھر اُن سے غلطیاں ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔نظام چلتا ہے فراخدلی کے ساتھ ، حوصلے کے ساتھ ، کچھ دوسرے کی رعایت کی کچھ اپنا حق چھوڑا، کچھ اپنا حق مانگنے میں کمی کی ، کچھ دوسرے کے حصے کے زائد مطالبے کو بھی نرمی سے پورا کرنے کی کوشش کی۔اس کو دوسرے لفظوں میں Cushioning کہتے ہیں اور اس کی مثال میں نے Lubrication سے دی ہے۔یہ اعلیٰ اخلاق کی مختلف صورتیں ہیں۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس سارے جلسے میں بھی پرانی روایات کی طرح خدا کے فضل کے ساتھ تمام کارکن اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھا ئیں گے۔اعلیٰ اخلاق اور نظم وضبط کے رشتے کے متعلق کچھ بتانا ضروری ہے۔بعض لوگ اعلیٰ اخلاق کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ نظم و ضبط کو توڑ دیا جائے۔حسن خلق کی خاطر نظام کو تو ڑ دیا جائے۔کسی کے پاس ٹکٹ نہیں ہے تو اُس کو بھی جانے دیا جائے۔قانون مقرر ہے کہ فلاں جگہ کھانا کھانا ہے تو جگہ جہاں ہے وہاں اُس کو بٹھا کے کھلا دیا۔یہ جو چیزیں ہیں یہ ایک پہلو سے حسن خلق کہلا سکتی ہیں بڑا نرم انسان ہے، بڑا خلیق ہے، ہر آدمی کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایک پہلو سے یہ بد انتظامی ہے اور بعض دفعہ بدانتظامی اتنی شدید رنگ کی ہو جاتی ہے حسن خلق کی وجہ سے کہ اُس سے بڑے بڑے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً سیکورٹی ، حفاظت کا نظام ہے اور لنگر خانوں میں اگر کسی کو جانے کی اجازت نہیں تو حفاظت کے نظام کی خاطر ہی ہے۔بعض دفعہ بعض شریروں نے ہمارے جلسہ سالانہ پر کھانوں میں زہر ملانے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ جماعت نگران تھی اور خدا کے فرشتے نگران تھے جنہوں نے نگرانوں کو متوجہ فرما دیا۔تو ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ ایسا ہوا ہے۔تو ایسے موقعوں پر حسن خلق خودکشی کے مترادف ہوتا ہے۔حسن خلق اور چیز ہے اور نظم وضبط اور چیز ہے اور ان دونوں کے درمیان ٹکراؤ نہیں ہے۔آپ بڑے حُسن خلق کے ساتھ نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ ایک آدمی کو کہہ سکتے ہیں کہ جناب آپ آگے نہیں جائیں گے۔وہ پختی بھی کرے تو آپ برداشت کریں یہ