خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 419

خطبات طاہر جلد ۹ 419 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء غصوں کو ختم کرنے کے لئے مزاح بہت کام دیتا ہے۔بعض بچے ایسی حرکت کر دیتے ہیں بعض دفعہ کہ ماں باپ کو ہنسی آ جاتی ہے۔خواہ کتنا ہی غصہ ہو اُن سے پھر وہ ہنسی برداشت نہیں ہوتی اور جنسی برداشت نہ ہونے کے معاملے میں چھوٹے بڑے ادنی اعلیٰ سب برابر ہوتے ہیں۔بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ اگر وفات کا موقع بھی ہو اور سوگ پر لوگ بیٹھے ہوں اگر کوئی ایسی حرکت کسی سے سرزد ہو جائے جو مزاحیہ ہو تو اُس وقت بھی ہنسی برداشت نہیں ہوتی۔ایک دفعہ قادیان میں مجھے یاد ہے ہم بھائیوں سے کوئی غلطی ہوگئی۔غالباً جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ ھی کہ ہمیں پتا نہیں لگا تھا کہ حضرت مصلح موعود نماز پہ چلے گئے ہیں اور ہم کھیلتے رہے اور جب واپس نکلے تو اُس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ ہم پکڑے گئے اور غلطی ہوگئی بہر حال لائن لگوادی حضرت مصلح موعودؓ نے اور سب کو سزا دینی تھی۔اب ہمیں پتا نہیں کیا سزا دینی تھی مگر بڑے غصے میں تھے کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے اُدھر نماز ہو رہی تھی اور تم صحن میں کھیل رہے تھے۔تو ہمارے ایک بھائی جن کا نام لینا اس وقت مناسب نہیں اُن کی شکل اس قسم کی بن گئی اس وقت خوف سے اور اُن کا چہرہ بھی موٹا تھا تو وہ ذرا سا منہ کا نپتا تھا تو ایک گلہ نیچے ہو جا تا تھا اور ایک اوپر ہو جاتا تھاوہ حضرت مصلح موعودؓ کی sense of humour یعنی مزاح کا ذوق جو تھا وہ بہت اعلیٰ لطیف تھا تو آپ کی اُس پر نظر جو پڑی تو ہنسی برداشت نہ ہوئی۔پہلے تو اپنا پلو پگڑی کا رکھا منہ پر اور کوشش کی برداشت کرنے کی اُس کے بعد اس قدر قہقہہ نکلا کہ وہ ہمیں اُسی طرح چھوڑ کر چلے گئے قصر خلافت کی طرف۔تو ہنسی میں نے جیسا کہ بتایا ہے بعض دفعہ بڑے بڑے غصے پر قابو پالیتی ہے تو اگر کوئی لطیف مزاح ہو تو وہ فائدہ بھی پہنچاتا ہے لیکن بھونڈے مذاق سے بچنا کیونکہ بھونڈا مذاق ہنستے ہوؤں کو بھی غصہ دلا دیا کرتا ہے اور ہر موقع کی بات ہوا کرتی ہے اس لئے بھانڈ پنے سے کام نہیں بنتا۔ذہانت کے ساتھ مزاح کا استعمال ہونا چاہئے۔اس فن کو آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے سیکھ سکتے ہیں۔جہاں آپ نے مثلاً وفات مسیح کے دلائل دیئے ہیں وہاں اُس کے بعض حصے مزاح سے تعلق رکھتے ہیں۔غیر احمدیوں کے عقائد کا بھونڈا پن آپ نے مزاح کے رنگ میں اس طرح ظاہر فرمایا ہے کہ لطیف مزاح ہے لیکن وہ تھوڑی دیر پڑھنے کے بعد میرا خیال ہے کہ مخالفین کو بھی ہنسی آ جاتی ہوگی۔ایسا لغو عقیدہ ہے کہ اُس کو اگر کھول کر اُس رنگ میں بیان کیا جائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بسا اوقات بیان فرمایا ہے تو انسان ہنسی کے بغیر رہ نہیں سکتا اور جس کو ہنسی