خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 405

خطبات طاہر جلد ۹ 405 خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۹۰ء پس اس آیت پر آپ جتنا بھی غور کرتے چلے جائیں اس کا مضمون وسیع سے وسیع تر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پھر فرمایا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ خبردار ہم پھر تمہیں تقویٰ کی تلقین کرتے ہیں۔ تمہیں نہیں علم کہ تم کیوں بعض حرکتیں کرتے ہو اور خدا جانتا ہے۔ اس لئے تمہیں آج علم نہ بھی ہو تو چونکہ خدا کا علم ہے جو آئندہ زمانے پر اثرات مترتب کرے گا تمہارا علم نہیں اس لئے تم اپنی طرف سے اچھی چیزیں بھی بنا رہے ہو وہ نہایت ہی مکروہ چیزوں کی شکل میں آئندہ اُبھر نے والی ہیں اس لئے خدا سے ڈرنا ضروری ہے اور خدا پر انحصار ضروری ہے اور اُس سے دُعا کے ذریعے مدد مانگنا ضروری ہے۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ یہ وہ لوگ ہیں جو رفتہ رفتہ خدا کو بھول جانے والے لوگ ہیں جو ان باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ پس خدا اور اُس کی یاد اُن کی باتوں اور مجالس کی دلچسپیوں کا مرکز نہیں رہتا بلکہ اسی قسم کے مشغلے ہیں جن میں وہ زندگیاں اپنی ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ اُن کی لذتوں کے رُخ بدل جاتے ہیں۔ فرمایا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں ۔ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ خدا اُن کو اس طرح بھولتا ہے کہ اُن کو اپنے مفادات سے غافل اور بے خبر کر دیتا ہے۔ پس خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ کا مضمون اس خوبصورتی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا ہے کہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اُس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم رفتہ رفتہ خدا کو زیادہ سے زیادہ بھولتے چلے جاؤ گے اور وہ لوگ جو خدا کو بھول جاتے ہیں خدا اُن کو اپنے حال سے بے خبر کر دیا کرتا ہے۔ پس فَأَنْسُهُمْ اَنْفُسَهُمْ کا مطلب یہی ہے کہ الله خَبِيرٌ ہے اور تم نہیں جانتے ۔ پس جب تم اپنے احوال سے بے خبر ہو جاتے ہو تمہیں پتا ہی نہیں رہتا کہ تم کیا کرتے ہو، کیوں کرتے ہو اور کس نہج میں ، کس سمت میں تم آگے بڑھتے چلے جارہے ہو تو ایسی صورت ہو جاتی ہے جیسے سر پٹ گھوڑے پر نہ ہاتھ باگ پر نہ پارکاب میں بے قابو گھوڑے پر سوار انسان بہا چلا جا رہا ہو جس رخ پر وہ گھوڑا سرپٹ دوڑا اُسی رخ پر اُس کا سوار دوڑتا چلا جاتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کا انجام اُن کے ہاتھ میں نہیں رہتا اور اُن کی بے خبری لازماً ان کے ماحول اور اُن کی آنے والی نسلوں کی تباہی پر منتج ہوا کرتی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ لَا يَسْتَوِى أَصْحَبُ النَّارِ وَأَصْحَبُ الْجَنَّةِ أَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ یہ خیال نہ کرنا کہ اصحاب الجنہ اور اصحاب النار میں فرق کرنا مشکل ہے۔ یہ تو کھلے کھلے فرق ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں