خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 406

خطبات طاہر جلد ۹ 406 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء سکتا کہ یہ دونوں برابر ہوں اور ایک حال میں رہیں یا خدا تعالیٰ اُن سے ایک جیسا سلوک کرے۔پس اس مضمون کو ایک اور رنگ میں بھی کھول دیا۔نیک لوگوں کی اولادیں نیک رہتی ہیں سوائے بعض استثناؤں کے اور اُن استثناؤں میں بھی والدین میں سے کسی ایک کی غفلت کا دخل ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت نوح کی اولاد میں سے ایک کی خرابی کا جہاں ذکر فر مایا وہاں حضرت نوح کی اہلیہ کی خرابی کا ذکر فر ما دیا اور اُن دو عورتوں میں اُن کا ذکر کیا جن سے تو بہ اور پناہ مانگنے کی ہدایت ہے۔ایک لوط کی بیوی اور ایک حضرت نوح کی بیوی اور حضرت نوح کی اولاد کی خرابی کا جو مضمون بیان ہوا ہے اُس سے پتا چلتا ہے کہ اس میں اُن کی اہلیہ کی کمزوری کا بھی دخل تھا۔دنیا میں جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے جہاں نیک لوگوں کی اولاد کو برباد ہوتے دیکھا ہے وہاں الا ما شاء اللہ میرے علم میں مگر نہیں کہ کبھی بھی ایسی صورت سامنے آئی ہو کہ دونوں ماں باپ برابر متقی ہوں اور اپنی اولا د پر ایک ہی طرح کے اثرات ڈال رہے ہوں اور اولا د ضائع ہو جائے۔دو طرح سے بدنصیبیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ایک یہ کہ باپ نیک ہے اور ماں کے اندر کمزوری ہے وہ اس کی نیکیوں پر خوش ہونے کی بجائے تکلیف محسوس کرتی ہے۔اگر وہ غالب باپ ہے اور طاقتور باپ ہے تو وہ باپ کے سامنے تو شکوہ کرنے کی مجال نہیں پاتی ، باپ کے جانے کے بعد اولا د کے کان بھرتی رہتی ہے اور ان کو کہتی ہے کہ تمہارے حق مارے گئے ، باپ تمہارا ایسا ہے پاگل ہو گیا ہے۔نماز کے لئے صبح اُٹھا کر لے جاتا ہے تو ماں اُس پر رحم کر رہی ہوتی ہے اور اولاد پر یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ یہ ظالم ہے۔تمہیں زبردستی گھسیٹ کے لے گیا ہے۔پس جہاں یہ تضادات پیدا ہو جائیں وہاں بعض دفعہ نیک بزرگ باپ کی اولا دبھی تباہ ہو جاتی ہے اور اسی طرح بعض بزرگ ماؤں کی اولادیں بھی تباہ ہو جاتی ہیں اگر خاوند بد ہوں۔تو دونوں کی ذمہ داری ہے اور قرآن کریم نے اسی لئے یہ تمام مضامین جمع کے صیغہ میں استعمال فرمائے ہیں اور ایک پہلو سے قومی ذمہ داری بھی ہے جیسے کہ میں کچھ بیان کر چکا ہوں کچھ آئندہ بیان کروں گا۔تو یہ یا درکھیں کہ بد اور نیک دو طرح سے الگ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ایک اپنے حالات کی وجہ سے جو ایک مؤمن کو صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔اُن کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ہماری غیر ذمہ دار باتوں سے کسی کا ایمان مجروح ہو جائے گا اور وہ دن بدن اخلاص کے مقام سے گرتا