خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 402
خطبات طاہر جلد ۹ 402 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء نے حاصل کی بعد کے زمانے میں سردار بننے لگ گئے اور نظام کے مقابل کھڑے ہونے لگ گئے۔بعض صورتوں میں خلافت سے ٹکر لینے لگ گئے اور اُن سب کو خدا کی تقدیر نے ہلاک کر دیا۔پس ثبات قدم اور آخری سانس تک ثبات قدم یہی وہ آخری انسان کی تمنا ہے جو اگر پوری وہ تمنا ہو جائے تو وہ کامیاب ہو گیا۔یہی تمنا انسان کا مقصود اور مطلوب اور زندگی کا مدعا بن جانی چاہئے۔پس یہ دُعا کہ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اِس مضمون کو بہت ہی اعلیٰ پیمانے پر ہمارے سامنے کھولتی ہے اور اس سے بہتر دُعا کوئی متصور ہو نہیں سکتی۔یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ دعا کیا کرو کہ ہم متقی بنیں۔فرمایا یہ دعا کیا کرو کہ متقیوں کے امام بنیں۔دُور تک کے مستقبل کی حفاظت اس دُعا میں شامل ہو جاتی ہے۔اول یہ کہ متقی بننا بہت اچھی بات ہے لیکن متقیوں کا امام بنا تو شہنشاہ بننے کے مترادف ہے۔ایک بادشاہ بھی بہت بلند مرتبہ رکھتا ہے لیکن جو بادشاہوں کا شاہ ہو جسے شہنشاہ کہا جاتا ہے اُس کا مرتبہ بہت عالی ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انبیاء کی نسبت سے یہ مرتبہ عطا ہوا کہ آپ انبیاء کے امام تھے اور آپ کی اُمت کو خدا نے یہ دُعا اُسی نسبت سے سکھائی کہ یہ دُعا کیا کروقَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا ہمیں بھی شہنشاہیت عطا کر اپنے دربار سے اور ہمیں صرف متقی نہ بنا بلکہ متقیوں کا امام بنا۔تو جو شخص متقیوں کا امام بننے کی بچے دل سے دُعا کرتا ہے وہ لازماً اپنے تابع لوگوں کے تقویٰ پر نظر رکھتا ہے اور اپنے متبعین سے اُس کا تعلق تقوی کی بنا پر بڑھتا ہے۔پس یہ جتنے ٹولے میں نے آپ کے سامنے بیان کئے ہیں یہ اس لحاظ سے ننگے ہو جاتے ہیں۔اکثر ان کے ساتھ شامل ہونے والے لوگ غیر متقی ہوتے ہیں۔اپنے روز مرہ کے اعمال میں ان کو سب دنیا جانتی ہے کہ ان لوگوں کے مقابل پر بہت زیادہ مجروح اعمال ہیں جنہوں نے نظام جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی کو قائم رکھا ہے اور ہر قیمت پر امیر کی اطاعت اختیار کرنے والے ہیں۔ان کی قربانیوں کا معیار، اُن کی روز مرہ کی زندگی ، اُٹھنا بیٹھنا، اُن کی نمازیں، اُن کا چندوں میں ہی نہیں بلکہ ہر نیکی کی آواز پر لبیک کہنا یہ تمام امور اُن کو ان دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ایک سچا امیر جو واقعہ اپنے لئے متقیوں کا امام ہونے کی دُعا کرتا ہے اور یہ دلی خواہش رکھتا ہے ایسے لوگوں کی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے اور ہمیشہ اُن کو نصیحت کرتا چلا جاتا ہے کہ تم نے فلاں بات میں کمزوری دکھائی تم اُسے دور کرنے کی کوشش کرو تم چندوں میں پیچھے رہ گئے تم نمازوں میں پیچھے رہ گئے تم