خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 403 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 403

خطبات طاہر جلد ۹ 403 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء بیویوں سے حسن سلوک میں پیچھے رہ گئے۔ان باتوں کی طرف وہ توجہ دلاتا رہتا ہے اور اُن کی مجلسیں انہی باتوں میں رہتی ہیں۔جو مخالف ٹولے ہیں اُن میں آپ یہ باتیں نہیں دیکھیں گے۔کبھی یہ نہیں ہو گا کہ ان کے مخالف ٹولے اکٹھے بیٹھے ہوں اور اُن کے سردار نے کہا ہو میں تم میں فلاں تقویٰ کی خرابی دیکھ رہا ہوں تم نے فلاں چندے میں لبیک نہیں کہا تم نمازوں میں سُست ہو گئے ہو تم اپنے بیوی بچوں سے حسنِ سلوک میں پیچھے رہ گئے ہو ایسی باتیں نہیں ہوتیں۔اپنی اصلاح کی بجائے یا یوں کہنا چاہئے کہ اپنی کمزوریاں دیکھنے کی بجائے اُن کو دور کرنے کی خواہش کی بجائے وہ صرف دوسروں کی کمزوریاں دیکھ رہے ہوتے ہیں اور تحکم کے ذریعہ اُن کو دور کرنے کا ادعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالی گواہ ہے کہ وہ دور کرنا نہیں چاہتے بلکہ وہ اس بات پہ زیادہ خوش ہوتے ہیں کہ اور زیادہ کمزوریاں دکھائی دیں اور یہ کمزوریاں باقی رہیں تا کہ یہ لوگ ہمیشہ اُن کی تنقید کا نشانہ بنے رہیں اور جو متقیوں کے امام ہیں وہ اپنے متبعین سے بھی اور دوسروں سے بھی ہمیشہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی کمزوریاں دور کریں گے اور اُن کی زندگیاں کمزوریاں واقعہ دور کرنے پر وقف رہتی ہیں کمزوریوں پر تنقید کرنے پر وقف نہیں ہوتیں۔پس یہ خیال کر لینا کہ متقیوں اور غیر متقیوں کے درمیان فرق مشکل ہے اور کہن نہیں سکتے کہ کون سا ٹولہ متقی ہے اور کون سا غیر متقی ہے یہ بالکل ایک بچگانہ خیال ہے۔قرآن کریم کی تعلیم پر اگر آپ غور کریں بلکہ ادنی سا بھی غور کریں تو یہ مضمون ہر جگہ کھلتا چلا جاتا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ متقی غیر متقیوں جیسے ہوں اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا دونوں سے ایک ہی جیسا سلوک کرے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو جس طرح مختلف رنگ میں بیان فرمایا وہاں یوں بھی بیان فرمایا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا الله اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أولك هُمُ الْفَسِقُونَ لَا يَسْتَوى أَصْحَبُ النَّارِ وَ اَصْحَبُ الْجَنَّةِ أَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَابِرُونَ (الحشر: ۱۹ تا ۲۱) کیسی خوبصورتی کے ساتھ ، کسی وضاحت کے ساتھ اس مضمون کے ہر پہلو کو کھول دیا ہے۔تقویٰ کا ذکر چل رہا ہے چنانچہ یہ تقویٰ ہی کا مضمون ہے۔فرمایا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو! جو ایمان لانے والے ہواتَّقُوا اللهَ۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔