خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد ۹ 398 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء آواز گھر سے باہر نہیں نکلتی بلکہ گھر والوں کو بھی سنائی نہیں دے رہی ہوتی کہ خدا کا مخلص اور دُکھا ہوا بندہ یہ عرض کرتا ہے کہ إِنَّمَا أَشْكُوا بَيْ وَحُزْنِی إِلَی اللہ میں تو اپنے غم اور اپنے دُکھ صرف اللہ ہی کے حضور پیش کرتا ہوں۔پس اس رنگ میں جو شکایت ہوتی ہے وہ بہت زیادہ گہرا اثر دکھاتی ہے کیونکہ یہ شکایت مبنی بر تقویٰ ہے اور یہاں اسکو ابی وَحُزْنِی میں یہی شکایت کا رنگ ہے جو بیان فرمایا گیا ہے۔پس یہ خیال غلط ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے کوئی اصلاح کی راہ نہیں رہتی اس لئے وہ فتنے پیدا کرتے ہیں۔اس لئے فتنے پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی انا کی خاطر فتنے پیدا کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر وہ تقویٰ کی یہ راہ اختیار کریں جو اصلاح کی حقیقی راہ ہے تو پھر اُن کی لیڈری نہیں چمکے گی بلکہ اُن کی شکایت کا ازالہ ہوگا اور جس چیز کو وہ اُچھال کر جماعت کے بعض دوسرے مجبور لوگوں کے سامنے لیڈر بن رہے ہوتے ہیں وہ چیز باقی نہیں رہتی جسے اُچھال کر پیش کیا جائے۔چنانچہ بسا اوقات میں نے تجربہ کیا ہے جب کوئی متقی کسی سے دکھ اُٹھاتا ہے اور وہ بصیغہ راز مجھے مطلع کرتا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔میں تو بہر حال برداشت کر رہا ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ اسی قسم کے حالات چلتے رہے تو بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بھی بن سکتا ہے۔جب میں تحقیق کرواتا ہوں کیونکہ متقی کی تحریر میں بھی ایک بڑی قوت ہوتی ہے اور صداقت اپنے آپ کو خود منواتی ہے اُس میں گواہیوں کی ضرورت نہیں رہا کرتی۔ایسی تحریر دیکھتے ہی یقین ہو جاتا ہے کہ یہ آدمی سچا ہے لیکن محض اس وجہ سے نہیں بلکہ تحقیق کا حق ادا کرنے کی خاطر جب تحقیق کروائی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے اور ہمیشہ ایسے شخص کی شکایت کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ مطمئن ہو جاتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں نہ اُس کے گرد کوئی ٹولہ اکٹھا ہوتا ہے، نہ زبان کے چسکوں کا موقع ملتا ہے کہ مجلسیں لگ رہی ہیں اور criticise کیا جارہا ہے، بعض لوگوں پر تنقید کی جارہی ہے اور اسی طرح ایک الگ اپنی چوہدراہٹ قائم کر لی جاتی ہے۔یہ لوگ جو تیسرا طبقہ ہیں جس کا میں ذکر کر رہا ہوں ان کے اکٹھے ہونے کے نتیجے میں ایک اور چیز اُبھرتی ہے اور وہ جتھا بندی کا مضمون ہے۔جتھا بندی شروع تو اسی طرح ہوتی ہے جیسے میں بیان کر رہا ہوں کہ کسی کی دشمنی میں چند لوگ اکٹھے ہونے شروع ہو جائیں لیکن جب اُن میں کچھ طاقتور ، کچھ منہ پھٹ لوگ شامل ہو جاتے ہیں تو اندرونی طور پر اُن میں قوت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے