خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۹ 397 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء قیادت ہے اور کون سی غیر متقی قیادت؟ اس کی بہت سی پہچانیں ہیں اور ہر جماعت میں ایسے لوگوں کو جو غیر متقی ہوں متقیوں سے الگ کرنا ہر گز ناممکن نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ مضامین اتنے کھول کر بیان کر دیئے ہیں کہ اُن کی روشنی میں کھرے کو کھوٹے سے تمیز کرنا، روشنی کو اندھیرے سے الگ دیکھنا ہر گز ناممکن نہیں بلکہ ضروری ہے۔ہر بینا آنکھ آسانی کے ساتھ ان دونوں ٹولوں میں فرق کر سکتی ہے۔تبھی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل :۸۳) حق آگیا ہے اور باطل نے اُس جگہ کو چھوڑ دیا ہے جس سے حق قابض ہوا ہے۔کیونکہ یہ دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے اور جہاں تک بھاگنے کا تعلق ہے باطل کے مقدر میں ہے کہ وہ بھاگے حق کے مقدر میں نہیں ہے۔پھر فرمایا رات اور دن اکٹھے نہیں ہو سکتے ، ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔زندہ اور مردہ ایک جیسے نہیں ہو سکتے اور ان دونوں میں ایک نمایاں فرق ہے۔پس یہ بات ناممکن ہے کہ متقی اور غیر متقی اکٹھے رہتے ہوں اور ایک بینا آنکھ جس کی نظر قرآن کریم کی تعلیم سے روشنی حاصل کرتی ہو وہ پہچان نہ سکے کہ غیر متقی کون ہے اور متقی کون ہے؟ سب سے پہلی چیز جو قابل توجہ ہے وہ ی ہے کہ متقی شخص اعلیٰ مقاصد کی خاطر اپنے جذبات کو قربان کرتا ہے اور اپنے جذبات کی خاطر اعلیٰ مقاصد کو قربان نہیں کیا کرتا۔اگر اُس کا نفس کچلا گیا ہے اور وہ اپنے نفس کا بدلہ اتارتے ہوئے جانتا ہے کہ اور بھی بہت سے نفوس کو زخمی کرے گا اور اُن کو بھی جماعت سے بدظن کرنے کا موجب بنے گا تو وہ اُن انبیاء کی تقلید کرتا ہے جو رات کو اٹھ کر یہ عرض کرتے ہیں کہ اِنَّمَا اَشْكُوا بَى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (یوسف:۸۷) کہ میں اپنے شکوے اور اپنی شکایتیں لوگوں کے سامنے نہیں کیا کرتا بلکہ رات کے اندھیروں میں تنہائی میں اُٹھ کر خدا کے حضور پیش کرتا ہوں۔پس متقی ہمیشہ اپنے شکوؤں اور شکایتوں کو خدا کے حضور پیش کرتا ہے یا خدا کے نمائندوں کے حضور پیش کرتا ہے جن کو وہ جانتا ہے کہ خدا کی طرف سے نمائندہ ہیں۔یہ بحث الگ ہے کہ دنیا کی نظر میں وہ نمائندہ ہیں یا نہیں لیکن جب تک کوئی شخص یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ فلاں شخص خدا کی طرف سے نمائندہ ہے اُس وقت تک اگر وہ متقی ہے تو اُس کا فرض ہے کہ اپنے شکوے اور اپنی شکایات اُسی طرح خدا کے نمائندوں کے حضور پیش کرے جس طرح وہ خدا کے حضور پیش کرتا ہے اور خدا کے حضور پیش کرنے کا طریقہ اس قرآنی دُعانے ہمیں سکھا دیا کہ رات کے اندھیروں میں اُٹھ کر جب