خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد ۹ کی دعا ئیں زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔391 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو ایک اور مثال میں اس طرح واضح فرمایا کہ وہ دعائیں جن سے تمہیں ڈرنا چاہئے وہ ضرور قبول ہو جاتی ہیں۔ان میں ایک ماں کی دعا ہے جو اپنی اولاد کے خلاف ہو۔دیکھیں کتنا عظیم الشان اور کتنا گہرا نکتہ بیان فرما دیا۔یہ نہیں فرمایا کہ ماں کی دعا جو اپنی اولاد کے حق میں ہو وہ ضرور قبول ہوتی ہیں کیونکہ ہر ماں گندی ہو یا نیک ہو پاک ہو یا نا پاک ہوا اپنی اولاد کے حق میں تو بعض دفعہ دہر یہ بھی ہو تو دعائیں کرتی ہے بے اختیار کرتی ہے، کیونکہ اس کو بعی محبت ہے وہ دعائیں چونکہ نفس کی خاطر ہیں اس لئے ان کی قبولیت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔نیک مائیں جب یہ دعائیں کریں گی تو پھر اس لئے مقبول ہوں گی کہ وہ دوسری جگہ بھی اپنی دعاؤں میں خدا کی خاطر التجائیں کرنے کی عادی ہوتی ہیں اس لئے وہ ضرور مقبول ہوں گی۔اس سے انکار نہیں لیکن مائیں اگر فطرت کے خلاف کسی بچے کو بد دعا دیتی ہیں تو اپنے مزاج کے خلاف بات کر رہی ہیں اور دیکھیں اور ایک مثال ایسی ہے جہاں مزاج کے مطابق دعاؤں کی تو ضمانت نہیں دی جاسکتی مگر مزاج کے خلاف دعا کرنے کی ضمانت ہے کہ وہ ضرور مقبول ہوگی۔تو دعاؤں کے مضمون کو جب سمجھ لیں اور ان کی گہرائی تک پہنچیں تو دعاؤں کے اسلوب آجاتے ہیں۔دعاؤں کا سلیقہ نصیب ہوتا ہے اور انسان کو سمجھ آجاتی ہے کہ کیوں بعض دفعہ میری عمر بھر کی گریہ وزاری بے کا رگئی ہے اور کیوں بعض دفعہ جوش پیدا ہوئے بغیر دل سے ایک خیال اٹھتا ہے اور وہ مقبول ہو جاتا ہے۔دعاؤں کو بھی تقویٰ کا لباس پہنانا پڑتا ہے۔یہ ہے آخری نکتہ اور اس کے بغیر دعائیں بارگاہ الہی میں مقبول نہیں ہو سکتیں۔پس رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِماما کی دعا کو اس مضمون کو سمجھتے ہوئے مستقل مانگنے کی عادت ڈال لیں اور جب یہ دعا کیا کریں تو اپنے تعلقات پر نگاہ کیا کریں کہ ان کی کیا نوعیت ہے۔آپ واقعہ ان کو بدلنے کے لئے تیار ہیں بھی یا نہیں۔اگر ہیں تو کیا کوشش کر رہے ہیں اور اگر نہیں تو پھر یہ دعا کیوں مانگ رہے ہیں۔پھر اس دعا کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی۔پس اس گہری اور تفصیلی نظر سے جب آپ صداقت کے ساتھ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اس دعا کے ذریعہ اپنے معاشرتی تعلقات اور اہلی تعلقات کو بہتر بنانے کی